قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 308 of 365

قسمت کے ثمار — Page 308

برادرم ذبیح صاحب کے ذکر سے ان کے والد بزرگوار سردار عبد الحق شاکر واقف زندگی بھی یاد آرہے ہیں۔اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ وہ وقف کی روح کے مطابق واقف زندگی تھے تو شاکر صاحب کے متعلق یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے۔سادہ دل، سادہ طبیعت ،سادہ صاف لباس اور سفید پگڑی آپ کی پہچان تھی۔انہیں جب بھی دیکھا کسی نیکی کے کام میں مصروف دیکھا۔دفتر میں مفوضہ کام کو بہترین طریق سے پورا کرنا دفتر کے بعد جماعتی اور رفاہی کاموں میں مصروف رہنا۔ایک لمبے عرصہ تک گول بازار اور تحریک جدید کے کوارٹرز میں محصل کے فرائض سرانجام دیئے۔جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ کام بہت ہی مشکل اور محنت طلب ہوتا ہے۔مگر شاکر صاحب نے سالہا سال یہ کام بڑی خندہ پیشانی، مثالی استقلال اور اخلاص سے سرانجام دیا۔انہیں اس دنیا سے سدھارے لمبا عرصہ ہو چکا ہے، تاہم ان کی کمی ابھی بھی محسوس ہوتی ہے۔بزرگوارم شاکر صاحب طبعی طور پر نفاست پسند تھے اور اسی وجہ سے ان کا خط بھی بہت خوبصورت تھا اور آپ اپنی اس خوبی کو بھی خدمت دین کیلئے خوب استعمال کرتے۔کسی نمایاں جگہ تختہ سیاہ پر یا اپنے گھر کی دیوار پر کوئی پر حکمت بات یا کسی بزرگ کا قول لکھ دیا کرتے تھے۔مسجد مبارک ربوہ میں عبادات کے اوقات کا چارٹ بہت خوبصورت انداز میں ڈیزائن کر کے لگا یا اور غالباً قادیان کی دونوں مرکزی مساجد میں بھی ان کی یہ یادگار ان کے لئے صدقہ جاریہ اور دعا کی محرک ہے۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ آپ دن بھر میں عبادت اور ذکر الہی کے وقت ہی مسلسل کام اور خدمت سے الگ ہوتے تھے۔برادرم ذبیح صاحب اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ایک واقف زندگی باپ کا اپنے اکلوتے بیٹے کو بشاشت اور شرح صدر سے وقف کر دینا قربانی کی ایک بہت اچھی مثال ہے۔ذبیح صاحب کے وقف کے متعلق ان کے والد صاحب کو بذریعہ خواب تحریک ہوئی تھی اور اپنے تخلص ذبیح کی یہ وجہ ایک گونہ مسرت و خوشی سے بتایا کرتے تھے۔برادرم ذبیح صاحب کو اپنے محلہ میں صدارت کی خدمات بجالانے کی توفیق ملی مجلس خدام 308