قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 186 of 365

قسمت کے ثمار — Page 186

اور غار میں حشرات الارض کی وجہ سے خطرہ نظر آیا تو اپنے عظیم الشان دوست کی خاطر جان کو خطرے میں دیکھتے ہوئے حضرت ابو بکر بنی ھن کی آنکھوں میں پانی آگیا مگر جذ بہ جانثاری و فدائیت برابر موجود بلکہ پہلے سے زیادہ ہورہا تھا اور یہی وہ مقام ہے جہاں صدیق اکبر کی خدمات وجذبات کی قبولیت کی الہی تصدیق و خوشنودی حاصل ہوئی جسے حضور ما ایلم کی زبان مبارک اور وحی الہی کی عظمت حاصل تھی لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنا - غم کی کیا بات ہوسکتی ہے میرے اور تمہارے ساتھ خدا تعالیٰ ہے۔اس غار میں ہم دو ہی نہیں ہیں بلکہ تیسرا خدا تعالیٰ ہے۔دوستی اور ایسے تعلقات کے سلسلہ میں قرآن مجید کی نہایت حکیمانہ اصولی ہدایت تو یہی ہے کہ : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَايَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ (النساء: 145) اے ایمان والو اپنے مومن بھائیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اور پس پشت ڈالتے ہوئے کافروں سے دوستی نہ کرو۔اسی طرح فرمایا: إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا ( المائدة: 56) تمہاری دوستی کے مستحق تو اللہ تعالیٰ اور مومن ہی ہیں۔ایک اور جگہ اس پر حکمت اصول کی وضاحت میں فرمایا:۔۔۔لا يَنْهكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دیار کا ركُمْ آنْ تَبَرُّوهُمْ وَ تُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ (الممتحنة: 9) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے حسن سلوک اور انصاف کے برتاؤ سے منع نہیں فرماتا جنہوں نے تمہارے ساتھ خود تعلقات منقطع کر کے جنگ و جدال کا طریق اپنا یا اور اس میں ہر قسم کی زیادتی اور ظلم کے مرتکب ہوئے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے شہروں سے نکال دیا۔قرآن مجید کی ان اصولی ہدایات سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ جہاں کافروں سے تعلقات رکھنے سے منع فرمایا ہے وہاں ایسے کفار کا ذکر ہے جو دین کے راستہ میں روک بنتے ہوئے ظلم وزیادتی 186