قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 187 of 365

قسمت کے ثمار — Page 187

سے کام لے کر مسلمانوں کو نقصان اور تکلیف پہنچانے کے درپے ہوں۔ورنہ عام حالات میں عام تعلقات سے تومسلمانوں کو منع نہیں کیا گیا کیونکہ ہر مسلمان پر اسلام کی تبلیغ کرنالازم ہے مگر دوسروں سے بکلی قطع تعلق رکھتے ہوئے تو تبلیغ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اسی طرح ہمارے آقا حضور صلی یا یہ تم کی حیات طیبہ اور اسوہ حسنہ میں بھی یہ رہنمائی ملتی ہے کہ آپ سانیا ایام کے غیر مسلموں سے بھی اچھے تعلقات تھے۔دعوی نبوت سے قبل حضور سالی کی اہم تجارتی سفر پر تشریف لے گئے اور باوجود اس کے کہ آپ مالی اسلام کو تجارت کا پہلے سے کوئی ذاتی تجربہ نہیں تھا آپ ایک کامیاب تاجر ثابت ہوئے۔آج کل کی اصطلاح یا محاورہ کے مطابق کہا جائے گا کہ Public Relations میں آپ بہت کامیاب تھے۔زمانہ نبوت میں بھی آپ کے عیسائیوں ، مشرکوں اور یہودیوں سے تعلقات تھے۔ایک مشرک رئیس مکہ سے آپ سال یا راہی ایم نے طائف کے سفر سے واپسی پر استمداد کی۔بائبل کے واقف ایک عیسائی سے آپ کی ملاقاتوں کا ذکر احادیث میں موجود ہے۔یہودیوں سے تو آپ سان اسلام نے قرض بھی لیا اور پھر احسن رنگ میں اس کی ادائیگی بھی فرمائی۔ذاتی دوستی سے متعلق ملنے والی رہنمائی تو بین الاقوامی تعلقات میں بھی مفید اور ضروری ہے۔حضور صلی لا الہ تم نے مصر کے قبطیوں سے اچھا سلوک کرنے کی ہدایت فرمائی۔حبشہ کے بادشاہ اور اس کی قوم کا بہت اچھے رنگ میں ذکر فرمایا اور ان کے احسان کو ہمیشہ یادرکھا۔حاتم طائی کے قبیلے سے اچھا سلوک فرمایا۔مدینہ کے یہودیوں سے تو با قاعدہ معاہدہ کر کے ایک متمدن حکومت کے مثالی رویہ کی نشاندہی فرمائی۔اور تاریخ عالم میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام پر فائز ہوکر بے انصافی ، زیادتی ظلم و جبر کے خلاف عدل وانصاف کا ایک شاندار نمونہ چھوڑ گئے۔خدا کرے کہ ہم سب ان پر حکمت احکامات پر عمل کر کے دین و دنیا کی سرخروئی وکامیابی حاصل کریں۔الفضل انٹرنیشنل-06مئی 2005ء) 187