قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 171 of 365

قسمت کے ثمار — Page 171

منفی رجحانات کی وجہ سے اپنی محرومیوں کی تلافی یا ان کا بدلہ لینے کے لئے مجرمانہ ذہنیت کے حامل بن جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے بچوں کے پس منظر کی تحقیق و تجزیہ کے نتیجہ میں ہمیشہ یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ماں باپ کی علیحدگی یاماں باپ سے محرومی کے رد عمل کی وجہ سے بچوں میں مجرمانہ رجحان پیدا ہو گیا۔شہداء کے بچوں کا تو معاشرہ پر دو ہر احق ہوتا ہے مگر دوسرے یتیم بھی مذکورہ بالا قرآنی حکم کے مطابق معاشرہ یا جماعت پر اپنا حق رکھتے ہیں۔تاریخی حقائق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ معاشرہ جو اپنے یتامی کی عزت نفس اور ضروریات کا خیال رکھتا ہے اور اس قومی فرض کی ادائیگی میں غفلت نہیں برتا ان میں قربانی کی روح برقرار رہتی ہے کیونکہ افراد جماعت کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ کسی بھی حادثہ کی صورت میں ان کی اولاد کو ضائع ہونے سے بچا لیا جائے گا۔گویا بیتامی کی خبر گیری قوم میں قربانی کی روح کو نہ صرف زندہ رکھتی بلکہ اس میں اضافہ کا موجب ہوتی ہے۔اس عظیم قومی فائدے کے ساتھ ساتھ اس اخلاقی و معاشرتی ذمہ داری کو با حسن ادا کرنے سے یتامی معاشرہ کا مفید وجود بن جاتے ہیں۔وہ مجرمانہ ذہنیت اور بداخلاقی و جرائم میں ملوث ہونے کی بجائے مفید اور کارآمد وجود بن کر نہ صرف اپنے قدموں پر کھڑے ہوتے اور خود کفیل بن جاتے ہیں بلکہ اپنی عمدہ تربیت اور اچھی صلاحیتوں کی وجہ سے اپنے خاندان اور معاشرے کے لئے قابل فخر سر مایہ بن سکتے ہیں۔قرآن مجید یتامی سے حسن سلوک کی ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے: فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ (الضحى (10) یتیموں سے سختی ، درشتی نہیں بلکہ پیار ومحبت کا سلوک کیا جاوے۔آنحضرت صا السلام نے بھی یتیموں سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ: آنَا وَ كَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایک ہاتھ کی دو باہم ملی ہوئی انگلیوں کی طرح 171