قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 172 of 365

قسمت کے ثمار — Page 172

ہوں گے۔فخر موجودات ، سرور کائنات، حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ایک یتیم تھے جو اپنی فطری سعادت و جبلی صلاحیتوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ کے لئے دنیا بھر کے رہنما قرار پائے۔قرون اولیٰ میں متعدد ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ یتامی اور آزاد کردہ غلام نہایت بلند علمی وروحانی مقام پر فائز ہوئے۔قادیان میں یتامی کی کفالت کی انفرادی مثالوں کے علاوہ جماعتی طور پر ”دار الشیوخ “ کے نام سے ایک ادارہ قائم ہوا جس میں معاشرہ کے محروم طبقہ کی کفالت کا انتظام تھا۔اس زمانہ میں جماعت کی مالی حالت بہت کمزور تھی۔اس کام کے لئے جوفنڈ مختص تھے وہ کافی نہ ہوتے تھے اور بعض دفعہ یہ صورت بھی پیش آجاتی تھی کہ دوسرے وقت کے کھانے کے انتظام کے لئے راشن وغیرہ موجود نہ ہوتا تھا۔حضرت میر محمد اسحق صاحب بنی ہو۔اس ادارہ کے منتظم ونگران تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت بلند مقام پر فائز فرمایا تھا۔وہ اپنی غیر معمولی خاندانی وجاہت کے ساتھ ساتھ غیر معمولی علمی قابلیت اور انتظامی قابلیت سے مالا مال تھے۔آپ مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر ہونے کے علاوہ قضاء کے اہم منصب پر فائز تھے۔اپنی ان مصروفیات کے علاوہ بیتامی کی کفالت کی ذمہ داری بھی آپ کے سپر تھی۔آپ کے ساتھ کام کرنے والے بتایا کرتے تھے کہ جب کبھی آپ کو مالی کمی کی اطلاع ملتی تو آپ خود قادیان کے بعض محلوں میں جا کر احباب جماعت کو مالی قربانی کی تحریک فرماتے اور اس طرح کفالت یتامی کا یہ نہایت بنیادی اور اہم کام جاری رہتا۔حضرت میر صاحب بنی وہ نہایت محبت، پیار، شفقت اور توجہ سے اس کام کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھ کر انجام دیتے رہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس ادارہ میں تربیت پانے والے متعدد یتامی معاشرہ کے مفید وجود بن کر اپنے خاندان اور جماعت کی اہم خدمات سرانجام دینے کی توفیق پاتے رہے۔ربوہ میں ” کفالت یکصد یتامی کی سکیم بڑی کامیابی سے جاری ہے۔اس بابرکت پروگرام 172