قسمت کے ثمار — Page 170
كِفَالَتِ یتامی- ایک اہم جماعتی ذمہ داری قرآن مجید میں محروم طبقات کے حقوق کی حفاظت کے لئے نہایت پر حکمت اور واضح ہدایات پائی جاتی ہیں جن سے نہ صرف یہ کہ محروم لوگوں کی محرومی وکمی دور ہو سکے بلکہ یہ بھی کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور وہ کسی بھی دوسرے شخص کی طرح معاشرہ کے مفید اور ذمہ دار وجود بن سکیں۔قرآن مجید نے اصولی طور پر انفاق یا خدمت خلق کے لئے یہ ہدایت دی کہ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاريت: 20) معاشرہ کے معزز ومتمول افراد کے اموال میں سائلوں اور محروم لوگوں کا حق ہے۔گویا مستحق افراد کی جب مدد کی جاتی ہے تو یہ ان کا حق ہوتا ہے جو انہیں واپس مل رہا ہوتا ہے۔یہ کوئی ایسا احسان نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ان کی آنکھیں نیچی رہیں اور وہ زیر بار احسان ہونے کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہو جائیں اور اس طرح معاشرہ کا مفید حصہ بننے کی بجائے غلط راستوں پر نکل کر معاشرہ کے لئے ایک نا قابل علاج ناسور بن جائیں۔محروم لوگوں میں یتامی بھی شامل ہیں یعنی ایسے افراد جو باپ کی شفقت ،نگرانی اور کفالت سے محروم ہو جا ئیں۔ایسے بچوں میں وہ بچے بھی ہوتے ہیں جن کے والد فی سبیل اللہ جہاد میں مصروف ہونے کے دوران جام شہادت نوش کر لیں اور اپنے پیچھے اپنی سوگوار بیوہ اور یتیم بچے چھوڑ جائیں۔اگر یہ بچے زمانے کی ٹھوکریں کھانے ، در بدر بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ دئے جائیں تو یہ ایک ایسی معاشرتی غلطی یا گناہ ہوگا جس کا خمیازہ پورے معاشرہ کو بھگتنا پڑے گا کیونکہ بالعموم ایسے یتیم اپنے 170