قسمت کے ثمار — Page 297
ماسٹر، قریباً اسی سال سے زیادہ جماعت کی شاندار خدمات سرانجام دینے والے صحابی ہی حضرت مسیح موعود علیشا کے اولین واقفین زندگی میں شامل حضرت مولوی محمد دین صاحب ناظر تعلیم اور صد رصدر انجمن احمد یہ ربوہ تھے۔آپ کو دیکھنے والا آپ کی غیر معمولی سادگی اور نیکی سے بہت متاثر ہوتا۔آپ سے باتیں کر کے آپ کے تجر علمی سے مبہوت ہو جاتا اور آپ کی باغ و بہار شخصیت کی وجہ سے ایک دفعہ منے کے بعد بار بار لنے کے مواقع کی تلاش میں رہتا۔حضرت خلیفہ اتبع الثانی بلی تھے نے آپ کی خدمات کو جماعت پر احسان قرارد یا رپورٹ مجلس 1952ء) حضرت خلیفہ اسیح الثانی بیان جو تعلیم کے میدان سے خصوصی دلچسپی کی وجہ سے حضرت مولوی صاحب کے غیر معمولی قدر دان تھے ، انہوں نے منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعدصدرصد رانجمن احمدیہ کے بلند منصب پر (جس پر آپ منصب خلافت پر متمکن ہونے سے قبل فائز تھے ) حضرت مولوی صاحب بھی شہ کو نا مزدفرمایا۔حضرت مولوی صاحب یہی کی وفات پر اخبار الفضل نے لکھا: احباب جماعت کو نہایت دکھ اور افسوس سے یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی بن الہند کے صحبت یافتہ واقفین زندگی کے ابتدائی گروپ کے رکن نہایت مخلص اور قدیمی خادم سلسلہ اور صدر انجمن احمد یہ پاکستان کے صدر حضرت مولوی محمد دین صاحب بی اے تاریخ 7 مارچ 1983ء بروز پیر وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ 66 راجعون۔آپ کی عمر ایک سو دو سال کے قریب تھی۔“ حضرت مولوی محمد دین صاحب بنی ان خوش قسمت اور پاکیزہ افراد میں شامل تھے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بابرکت صحبت نصیب ہوئی اور زندگی کے آخری لمحے تک آپ نہایت اعلیٰ مناصب پر خدمت دین بجالاتے رہے۔وفات کے وقت آپ جماعت میں انتظامی ذمہ داری کے اعلیٰ ترین عہدے صدر صدرانجمن احمدیہ پر متمکن تھے۔اس دور میں جبکہ حضرت مسیح 297