قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 298 of 365

قسمت کے ثمار — Page 298

موعود علیہ السلام کے صحبت یافتہ بزرگ خال خال ہی رہ گئے ہیں ان کا وجود جماعت میں برکت کا موجب تھا۔حضرت مولوی صاحب کو 1907 ء سے لے کر 1983ء تا دم آخر یعنی 76 سال تک دین کی بھر پور خدمت کی توفیق ملی۔یہ عرصہ اپنی طوالت کے لحاظ سے خدمت دین کا ایک ریکارڈ ہے۔حضرت مولوی محمد دین صاحب بنی 4 دسمبر 1881ء کو پیدا ہوئے ( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 206) آپ کا وطن مالوف لاہور تھا۔آپ کو 1901ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ شروع 1903ء میں نقل مکانی کر کے مستقل طور پر قادیان آگئے۔ستمبر 1907ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احباب جماعت کو خدمت دین کے لئے زندگی وقف کرنے کی تحریک کی تو جن تیرہ صحابہ کرام بینی لھن نے اس تحریک پر لبیک کہا ان میں ایک آپ بھی تھے۔تاریخ احمدیت میں آپ کا نام اولین واقفین کی فہرست میں قیامت تک کیلئے محفوظ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی محمد دین صاحب ان کی درخواست پر اپنے دست مبارک سے تحریر فرمایا: نتیجہ کے بعد اس خدمت پر لگ جائیں“ اس وقت مولوی صاحب علی گڑھ کالج میں بی اے کے طالب علم تھے۔واقفین کی فہرست میں حضرت مولوی صاحب کا نام ساتویں نمبر پر ہے۔تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 504) حضرت مولوی صاحب 1914ء سے 1921ء تک تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں ہیڈ ماسٹر رہے۔جنوری 1923ء سے دسمبر 1925 ء تک امریکہ میں خدمت دین کے فرائض سرانجام دیئے۔آپ نے امریکہ جا کر حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے چارج لیا۔ان کے عہد میں امریکہ کے مشن کو اللہ تعالیٰ نے بہت وسعت دی اور آپ کے ذریعہ سے کئی امریکن احمدی ہوئے۔298