قسمت کے ثمار — Page 295
بھی بمشکل ہی یاد کر پایا۔اس واقعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت صاحب کا دائرہ واقفیت صرف احباب جماعت تک ہی محدود نہ تھا بلکہ آپ کے حلقہ احباب میں ہندوستان بھر کے معززین، رؤسا مذہبی لیڈر سیاسی رہنما اور ادبی ہستیاں بھی شامل تھیں۔حضرت صاحب سے ذاتی تعلق پر فخر محسوس کرنے والوں میں جہاں ایک طرف خواجہ حسن نظامی جیسے صوفی اور مذہبی لیڈر شامل تھے وہاں طنز وظرافت کے منفرد و مشہور ادیب جناب عبدالمجید سالک بھی آپ سے عقیدت رکھتے تھے۔سر فیروز خاں نون سرشہاب الدین غلام محی الدین قصوری بلکہ علامہ سرمحمد اقبال بھی اپنی سیاسی مجبوریوں سے قبل ) آپ سے عقیدت کا دم بھرتے تھے یادر ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت کے لئے حضرت صاحب کا نام ڈاکٹر سر علامہ اقبال نے ہی تجویز کیا تھا اور بڑے اصرار سے یہ ذمہ داری قبول کرنے کی درخواست کی تھی۔قیام پاکستان کے سلسلہ میں آپ کی شاندار خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں سرمحمد شفیع مولانا محمد علی اور سر آغا خاں ہی نہیں خود قائد اعظم محمد علی جناح بھی شامل تھے۔جنہوں نے مسلم لیگ کی حمایت کے سلسلہ میں حضرت صاحب کا ایک ارشاد اس کی اہمیت ، افادیت کے پیش نظر پریس میں بھجوایا اور ایک گفتگو میں احمدیوں کی حسن کارکردگی اور سرگرمی پر خوشگوار حیرت کا اظہار فرمایا۔ہمارے پیارے امام کی ذات اپنی گونا گوں خوبیوں اور صفات کی وجہ سے ایک انجمن تھی بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ آپ کی ذات انجمن ہی نہیں انجمن ساز تھی۔آپ نے جماعت کی تعلیمی و تربیتی اغراض سے صدر انجمن احمدیہ (اپنی موجودہ شکل میں ) تحریک جدید انجمن احمد یہ، وقف جدید انجمن احمد یہ اور اسی طرح انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ جیسی انجمنوں کی بنیا درکھی جو آپ کا زندہ جاوید کار نامہ اور بہت قابل قدر یادگار ہیں۔(روزنامه الفضل ربوہ 17 دسمبر 1996ء) 295