قسمت کے ثمار — Page 292
حضرت مصلح موعود بنی ہیں۔ایک اولو العزم را ہنما حضرت مرزا بشیر الدین محمود احد صاحب خلیفہ مسیح الثانی بیان کوئی ایسی لیڈر تو نہ تھے نہ ہی اکثر و بیشتر سیاسی رہنماؤں اور طالع آزماؤں کی طرح آپ کی نظر کسی وقتی دنیوی مفاد و اقتدار پر تھی۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے ملی اور قومی مفاد کے منصوبوں اور جدوجہد میں جو ر ہنمائی فرمائی اور اپنی بلند دینی اقدار و تعلیمات کی محبت وعقیدت میں جو خدمات سرانجام دینے کی توفیق پائی ان میں یہ بات بہت ہی نمایاں اور واضح ہے کہ آپ نے کبھی کوئی دنیوی مفاد ومعاوضہ حاصل کرنا تو دور کی بات ہے ایسے فوائد حاصل کرنے کی خواہش بھی نہ کی بلکہ اگر کسی حلقہ سے کبھی کوئی ایسی پیشکش ہوئی تو اسے کمال شان استغناء سے ٹھکرادیا۔اس بے غرضی اور بے نفسی کی وجہ سے آپ کی خدمات کی شان اور نتائج واثرات میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔آپ کی خدمات وجد وجہد میں ایک اور نمایاں خوبی اور خصوصیت یہ بھی نظر آتی ہے کہ آپ نے اصلاح و بہتری کے ہر کام میں کلام الہی کو اپنا رہنما قرار دیتے ہوئے ہمیشہ صحیح سمت میں ہی قدم اٹھایا اور اسی وجہ سے آپ کی خدمات کو ناکام تجربوں کے صدموں اور ناکامیوں سے دوچار نہ ہونا پڑا۔گویا ایمان و توکل آپ کا زاد راہ۔عزم ویقین آپ کا طریق عمل اور بے غرضی و بے نفسی آپ کا اسلحہ تھا۔ظاہر ہے کہ یہ امور جہاں بھی اور جب بھی جمع ہوجائیں یقینی کامیابی کی ضمانت ثابت ہوتے 292