قسمت کے ثمار — Page 291
خاتون کی بزرگانہ شفقت و محبت سے حصہ پاتے رہے۔آپ افریقن خواتین سے پیار و محبت سے پیش آتیں اور ان کی تعلیم و تربیت میں عملاً اس توجہ اور انہماک سے حصہ لیتیں کہ وہ آج تک اس سلوک کو بھلا نہیں سکیں اور انہیں ایک مہربان ماں کی طرح یاد کرتی ہیں۔حسن اتفاق سے ہمارا گھر ان کی رہائش گاہ سے قریب ہے اس وجہ سے ہمیں ان کی شفقت و پیار سے استفادہ کا زیادہ موقع ملتا رہا۔عام پڑوسیوں میں جولین دین اور سلوک ہوتا ہے اس سے کہیں بڑھ کر ہر ایسے موقع پر جب یہ خاکسار گھر پر نہیں ہوتا تھا میری اہلیہ اور بچوں کو ان کی پیار بھری توجہ اور نگرانی حاصل ہوتی تھی۔ہمارے بچے بہت زیادہ مانوس اور باہم اکٹھے ہی اٹھتے بیٹھتے اور کھیلتے بڑھتے رہے۔جتنا عرصہ خاکسار پاکستان سے باہر رہا بچوں کی خیریت کی خبر ان کے ذریعہ ملتی رہی اور اس زمانہ کی میرے بچوں کی اکثر تصاویر ان کے ہاں کی ہیں۔خاکسار کی بہت حوصلہ افزائی کیا کرتی تھیں۔بعض واقعات کو بیان کر کے کہا کرتی تھیں کہ میرے اس بھائی نے میرا بہت ساتھ دیا ہے۔اسی طرح میری اہلیہ صاحبہ سے بھی بہت پیار کرتی تھیں بسا اوقات تو یہ بھی ہوتا تھا کہ اگر دن میں ایک سے زیادہ مرتبہ بھی ان سے ملتیں تو مصافحہ کے علاوہ معانقہ بھی ضرور کرتیں اور پھر ان کی حوصلہ افزائی کیلئے کسی کپڑے کسی کھانے کی خوب تعریف کر کے ان کو خوش کر دیتیں اور ان کا یہ سلوک غالباً سب ملنے والوں سے ہی تھا کیونکہ ان کی زندگی اور حالات پر نظر ڈالنے سے یوں لگتا ہے کہ وہ دوسروں کو خوش کرنے اور دوسروں کی خدمت کرنے کیلئے اپنے آپ کو وقف کئے ہوئے تھیں۔اللہ تعالیٰ مغفرت و قرب سے نوازے۔(روزنامه الفضل ربوه 16 اکتوبر (1997) 291