قسمت کے ثمار — Page 293
ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مخالفت کی زور دار آندھیوں اندرونی و بیرونی فتنوں کے ہجوم کے باوجود آپ کی زندگی غیر معمولی تائید و نصرت، کامیابیوں اور فتوحات کے ایمان پرورجلووں سے معمور ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو علمی میدان میں نہایت مفید اور دور رس خدمات سرانجام دینے کی سعادت عطا فرمائی۔اس امر کی عظمت میں اس وجہ سے بھی بہت اضافہ ہو جاتا ہے کہ آپ کی ظاہری تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی۔آپ کی تعلیم کے سلسلہ میں حضرت مولانا نورالدین کا اسم گرامی بھی آتا ہے مگر یہاں بھی ایک عجیب امر سامنے آتا ہے۔طالب علم کی صحت کی خرابی و کمزوری کی وجہ سے حضرت مولا نا نور الدین خلیفتہ اسی اول دینی تھن، کتاب پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ طالب علم سننے پر ہی اکتفا کرتا ہے۔اور یہ کام بھی مہینوں اور سالوں پر ممتد نہیں ہوتا بلکہ دنوں میں ہی مکمل سمجھ لیا جاتا ہے۔اس تعلیم کے دوران اگر کبھی طالب علم نے کسی مشکل مقام کو سمجھنے کیلئے سوال کر کے اپنے علمی تشنگی کو دور کرنا چاہا تو اس معلم دانش و حکمت نے کبھی سوال کرنے کی حوصلہ افزائی نہ فرمائی بلکہ یہی جتلا دیا کہ خود ہی غور کر کے بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس طرح اپنے طالب علم کو ایک ایسی کان معرفت میں داخل کر دیا جہاں حق و حکمت کے کبھی نہ ختم ہونے والے بیکراں خزائن موجود تھے۔اس طالب علم نے بھی غور و فکر کا حق ادا کر دیا اور یہی نہیں کہ خود حق و حکمت سے مالا مال ہوا بلکہ ہستی باری تعالیٰ۔ملائکتہ اللہ ، تقدیر الہی ، حقیقة الرویاء، احمدیت مجمع البحرین جیسے بنیادی امور پر عالمانہ خطاب فرمائے سیر روحانی کلام الہی کی تشریح و تبیین پر عارفانہ روشنی ڈالی۔دعوت وارشاد کے موضوع پر ضخیم کتب و مفصل خطابات سے نہ صرف لوگوں کی بصیرت میں اضافہ فرمایا بلکہ عملی حالت میں ایک نیک و پاک انقلاب بھی پیدا فرمایا۔آپ کی قائدانہ صلاحیتوں پر ایک نظر ڈالنے سے یہ عجیب بات سامنے آتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کو 25 سال کی عمر میں، جبکہ آپ کو قیادت کا کوئی تجربہ نہیں تھا، جماعت کی قیادت سنبھالنے کا موقع ملا۔1965 ء تک کم بیش 52 سال آپ نے جماعت کی قیادت فرمائی گو یا اللہ تعالیٰ 293