قسمت کے ثمار — Page 287
نہیں چاہتے کہ ہمارا ملک غلام رہے ہم اپنے۔۔حقوق کا مطالبہ کرتے رہیں گے اور انہیں حاصل کریں گے۔“ (الفضل 9 مئی 1930 ء ) صحیح طریق پر کام کرنے اور اپنے اخلاق کو درست رکھنے سے کامیابی کے حصول کی بشارت دیتے ہوئے آپ نے فرمایا: وو باوجود یکہ ہم نہ تشددکریں گے اور نہ سول نافرمانی۔باوجود یکہ ہم گورنمنٹ کے قانون کا احترام کریں گے۔باوجود اس کے کہ ہم وہ تمام ذمہ داریاں ادا کریں گے جو احمدیت نے ہم پر عائد کی ہیں اور باوجود اس کے کہ ہم ان تمام فرائض کو پورا کریں گے جو۔۔۔ہمارے لئے مقرر ہیں۔پھر بھی ہماری سکیم کامیاب ہوکر رہے گی۔کشتی احمدیت کا کپتان اس کشتی کو پر خطر چٹانوں میں سے گزارتے ہوئے سلامتی کے ساتھ ساحل پر پہنچا دے گا۔یہ میرا ایمان ہے اور میں اس پر مضبوطی سے قائم ہوں۔“ (الفضل 11 نومبر 1934ء ) ترک موالات ،سول نافرمانی ، عدم تعاون ، قانون شکنی کے متعلق حضرت صاحب نے بڑے زور بڑے اصرار اور بڑے تکرار سے دنیا کو یہ بتایا کہ اس کے نتیجہ میں قومی اخلاق تباہ ہو جائیں گے اور نوجوانوں کا کیریکٹر خراب ہو جائے گا۔مگر پاکستان بننے کے بعد ایک ایسے طبقہ نے جو پاکستان کے قیام کے ہی خلاف تھا، یہاں قانون شکنی کی تلقین شروع کر دی اور اسکا یہ طریق اختیار کیا که بر سر عام اپنی تقریروں اور تحریروں میں احمدیوں کے خلاف قانون کو ہاتھ میں لینے اور انہیں قتل کر دینے کی تلقین کرنے لگے۔اس عام قانون شکنی کی تلقین کے نتیجہ میں امن وامان کی حالت بگڑنے لگی اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کو ایک جلسہ عام میں قتل کر دیا گیا۔حضرت صاحب نے اس افسوسناک سانحہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔۔۔بے شک قومی لحاظ سے خاں لیاقت علی خاں کا قتل نہایت افسوسناک بات 287