قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 288 of 365

قسمت کے ثمار — Page 288

ہے اور سیاسی لحاظ سے یہ امر ملک کے لئے نہایت نقصان دہ ہے لیکن اس کا مذہبی پہلو اور بھی خطر ناک ہے اور وہ یہ کہ ہماری سیاست تو گئی تھی اب مذہب پر بھی حملہ کیا گیا ہے اور دنیا بجھتی ہے کہ ہم وحشی ہیں اور جسے چاہتے ہیں قتل کر دیتے ہیں۔کسی نے کہا ہے : زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا دنیا اس بات سے غافل ہے کہ مخالف کیا کہتے ہیں وہ احمدیوں کے قتل کا علی الاعلان ایک جگہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں حالانکہ حکومت اور اس کے کرتے دھرتے بھی موجود ہیں۔۔۔پس میرے نزدیک ان خطرات کو دور کرنے کا ذریعہ یہ ہے کہ۔۔۔ذہنیتوں کو خراب کرنے سے روکا جائے۔“ (الفضل 6 نومبر 1951ء) اس سلسلہ میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر قانون کو ہاتھ میں لینے کی یہ تلقین اس طرح جاری رہی تو یہ تلقین کرنے والے بھی دور بیٹھ کر آگ نہیں سینکیں گے بلکہ لاقانونیت کی آگ سے یہ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔آج جو حالات پیدا ہو چکے ہیں ان میں حضرت صاحب کی دور اندیشی اور پیش بینی کی قدر و قیمت کا بخوبی اندازہ ہورہا ہے۔حضرت صاحب بطور نصیحت فرماتے ہیں: اے عزیز و اصلح اور محبت ایک پاک چیز ہے اور فساد وفتنہ نا پاک چیز ہے۔خدا کا پیارا بننے کے لئے اور اس سے تعلق پیدا کرنے کیلئے محبت اور عفو کا پیدا ہونا ضروری اسی طرح آئندہ نسلوں کو نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: مجھے ڈر ہے تو اس بات کا کہ ہماری نسلیں جب تاریخ میں ان مظالم کو پڑھیں گی اس وقت ان کا جوش۔۔۔غضب عیسائیوں کی طرح ان کو کہیں اخلاق سے نہ پھیر دے۔۔۔اس لئے میں آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ ان کو ہماری 288