قسمت کے ثمار — Page 286
” یہ مت خیال کرو کہ گورنمنٹ تمہاری قدر نہیں کرتی۔ہم جو کچھ کرتے ہیں گورنمنٹ سے قدر کرانے کیلئے نہیں کرتے بلکہ خدا کیلئے کرتے ہیں اور خدا کے حکم سے کرتے ہیں کہ زمین میں فساد نہ کرو اور امن کو قائم رکھو۔۔۔ہمارا یہ فعل اس غرض سے نہیں ہے کہ کوئی ہماری قدر کرے۔ہمیں گورنمنٹ کیا دے سکتی ہے۔ہمیں دینے والا ہمارا خدا ہے اس لئے ہم جو کچھ کرتے ہیں وہ کسی لالچ سے نہیں کرتے ہمیں تو خدا نے وہاں کھڑا کیا ہے جہاں کسی مدح اور ذم کا اثر پہنچ ہی نہیں سکتا۔۔۔ہمارا کام خدا کی رضا حاصل کرنا ہے۔ہمارے نزدیک لالچ گناہ ہے۔۔۔ہم وفادار ہیں۔ہم امن قائم رکھنا چاہتے ہیں اس لئے کہ ہمارا دین ہمیں یہی سکھاتا ہے۔خدا ہمیں فساد سے روکتا ہے۔پس تم دین کے لئے ، خدا کیلئے ،۔۔۔امن کو قائم رکھو کسی کے قدر کرنے کے خیال کو دل میں بھی نہ لاؤ کیونکہ ہمارے دین کی ترقی اس سے ہوگی۔اگر دنیا کی نظر میں تم اس وجہ سے ذلیل ٹھہر و تو مت پر واہ کرو کیونکہ خدا تمہاری عزت کرے گا۔“ ( الفضل 10 مئی 1919ء) قانون کے اندر رہتے ہوئے جائز طریق سے جائز حقوق کے حصول کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ( ہمارے لئے ضروری ہے کہ۔ناقل ) قانون شکنی کا مقابلہ کریں اور ادھر گورنمنٹ سے اپنے مطالبات پورے کرنے پر قانون کے اندر رہ کر زور دیں اور ثابت کر دیں کہ ہم ایسے ہی ملک کی آزادی کے خواہاں ہیں جیسے ہندو اور اس بات کو جاری رکھیں جب تک اپنے حقوق حاصل نہ کر لیں۔ہر جگہ اور ہر علاقہ کی جماعتیں قانون شکنی کا مقابلہ کریں اور اس طرح گورنمنٹ کو امن قائم کرنے میں مدد دیں مگر اس کے ساتھ ہی صاف طور پر کھول کر کہہ دیں کہ ہم یہ 286