قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 279 of 365

قسمت کے ثمار — Page 279

سوروپے بہت بڑی رقم تھی اور جس عظیم ہستی کی طرف سے یہ گرانقدر مدل رہی تھی اس کی نسبت سے اس رقم کی اہمیت بے حد وحساب ہو جاتی ہے۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ مسیح ثالث ریالیہ کے زمانہ میں بھی آپ کی خدمات کا سلسلہ برابر جاری رہا۔حضرت صاحب نے آپ کو اپنی امامت کے ابتدائی زمانہ میں یاد فرمایا اور بڑی محبت و پیار کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ روزانہ رات کو میرے پاس آیا کریں اور اپنے دن بھر کے کاموں کی رپورٹ دیا کریں۔فرماتے تھے کہ یہ مجالس بہت ہی پر لطف ہوتی تھیں۔دن بھر کے کاموں کے تذکرہ کے علاوہ آئندہ کرنے والے کاموں کے متعلق ہدایات ملتی تھیں۔اس دوران حضرت بیگم صاحبہ موسم کے مطابق مشروبات کا اہتمام فرما تھیں اور اس خادم کی حوصلہ افزائی و دلجوئی کی جاتی۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ امسیح ثالث رویشعلیہ نے قرآن کی غیر معمولی اشاعت کا بیڑا اٹھایا تو اس کام کیلئے آپ کی نظر انتخاب حضرت مولانا صاحب پر ہی پڑی تو دیکھتے ہی دیکھتے قرآن مجید کی لاکھوں جلدیں حق وصداقت کی اشاعت کے لئے دنیا بھر میں پہنچ گئیں۔خدا تعالیٰ نے آپ کو محنت اور توجہ سے کام کرنے کا حوصلہ اور سلیقہ عطا فرمایا تھا۔جو کام بھی آپ کے سپر د کیا جاتا آپ اسے ہر قیمت پر پایہ تکمیل تک پہنچاتے۔آپ کو مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ کے منتخب قائد کے طور پر بعض ایسی خدمات کی توفیق ملی جو آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔حضرت مولانا صاحب کے متعلق اگر یہ لکھا جائے تو ہر گز اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ آپ نے کبھی ہر دلعزیزی حاصل کرنے کی کوشش نہ کی۔بات صاف واضح اور کھری کرتے اور اس امر کی مطلق پرواہ نہ کرتے کہ اس سچی بات کے نتیجہ میں کوئی کیا سمجھے گا اور کیا کہے گا۔یہ الگ بات ہے کہ پر خلوص محنت کی وجہ سے آپ کی عزت میں اضافہ ہی ہوتا اور دوستوں اور مداحوں کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو جاتا۔حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب بنی شیعہ آپ کے قدر دانوں میں سے تھے اور جب بھی ربوہ تشریف لاتے حضرت مولانا صاحب سے ان کے ہاں جا کر ملاقات کرتے۔279