قسمت کے ثمار — Page 278
حضرت مولوی صاحب کبھی کبھی اس خلعت فاخرہ کو بڑی خوشی سے پہن کر دکھایا کرتے تھے۔اسی طرح کسی علمی خدمت پر خوش ہو کر حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ علمی کام کرتے ہیں اس لئے آپ کو خاص خوراک کی ضرورت ہوگی۔آپ میری طرف سے روزانہ دودھ جلیبی کھایا کریں۔آپ اس لطف خاص سے سالہا سال تقسیم ملک تک متمتع ہوتے رہے۔حضرت مولوی صاحب بیان کیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم اپنے آقا کے ہمراہ پہاڑ پر گئے وہاں پر بھی مسلسل کام ہوتا رہا۔قادیان واپس آئے تو آپ نے فرمایا کہ آپ میرے ساتھ جاتے ہیں تو دن رات کام میں مصروف رہتے ہیں۔آپ کو تو سیر و تفریح کا کوئی موقع ہی نہیں ملتا۔اب آپ اپنے کوئی سے چار دوستوں کو ساتھ لے کر پہاڑ پر جائیں اور رخصت گزار کر آئیں۔اس عرصہ کے لئے حضرت صاحب نے ان کے ساتھ ایک باورچی کو جانے کا حکم دیا اور تمام اخراجات بھی خود ادا فرمائے۔اسی رخصت سے واپسی پر جب استاد محترم قادیان پہنچے تو اتفاق سے اس دن حضرت صاحب اور اہل قادیان پکنک کی غرض سے نہر پر جارہے تھے۔سب انتظام ہو چکا تھا اور حضرت صاحب جانے ہی والے تھے۔حضرت مولوی صاحب نے کسی خادم کے ذریعہ اپنی آمد کی اطلاع دیتے ہوئے کہلوایا کہ آپ تو باہر تشریف لے جارہے ہیں اور ہم ؟ حضرت مولوی صاحب بڑی مسرت سے بتایا کرتے تھے کہ حضرت صاحب نے از راہ زرہ نوازی جواباً فرمایا کہ ” آپ سر آنکھوں پر 66 حضرت مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ام طاہر بنی ہی نے مجھے اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔اس لئے میرے ساتھ وہی سلوک ہوتا تھا جو اپنے بچوں سے کیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ میری کی شادی کی تمام ضروریات و اخراجات بھی حضرت صاحب نے اپنی جیب سے اپنی نگرانی و انتظام میں کروائے۔اس مقصد کیلئے اس زمانے میں ایک موقع پر حضرت صاحب نے آپ کو سات سو روپے کی خطیر رقم عنایت فرمائی۔اس زمانے میں جب گندم تین روپے من اور سونا 30 روپے تولہ تھا ، سات 278