قسمت کے ثمار — Page 267
عاقل کا یہاں پر کام نہیں وہ لاکھوں بھی بے فائدہ ہیں مقصود مرا پورا ہو اگر مل جائیں مجھے دیوانے دو اس شعر میں عقل و دیوانگی کو ایک دوسرے کے مقابل باندھتے ہوئے دیوانگی کو ہمہ تن وقف اور لگن و دھن کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔Commitmentاور Devotion کا بھی وہی مفہوم ہے جو اس جگہ حضرت صاحب نے دیوانگی کو عقل کے مقابل پر رکھ کر پیش فرمایا ہے۔عقل کا لفظ یہاں عام معنوں یا عوام کے استعمال کے مطابق باندھا گیا ہے کیونکہ لغوی یا حقیقی طور پر تو عقل سلیم بھی انسان کو منزل مقصود کے حصول کیلئے پوری توجہ اور کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتی ہے عرصہ سعی محباں محدود ہے وقف کی حقیقی روح ان چند الفاظ میں بیان کر دی گئی ہے کہ ایک بلند مقصد کے حصول کی خاطر انسان اس بات کا خیال نہیں کر سکتا کہ میری ڈیوٹی یا فرض کی ادائیگی کے اوقات مقرر ہیں اور ان مقررہ اوقات سے پہلے یا بعد کام کرنا میری ذمہ داری نہیں ہے۔حضرت صاحب نے اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے ایک خطاب میں فرمایا ہے کہ گھر والے یعنی گھر کا مالک اور اس کے عزیز اپنے گھر کا ہر ضروری کام ہر وقت از خود کرتے چلے جائیں گے اور انہیں اس مقصد کیلئے کبھی کسی تلقین اور یاددہانی وغیرہ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی البتہ ملازم یہ سوال کر سکتا ہے یا یہ بات سوچ سکتا ہے کہ یہ کام میرے فرائض میں شامل نہیں ہے۔یا میرے کام کے اوقات ختم ہو چکے ہیں۔اس چھوٹے سے مصرع میں زندگی بھر بغیر کسی تکان یا اکتاہٹ کے مسلسل جذبہ کے ساتھ کام کرنے کی کی نہایت موثر تلقین پائی جاتی ہے۔جس میں یہ قید بھی نہیں ہے کہ میں زندگی بھر کام کروں گا بلکہ یہی عزم وجذ بہ نظر آتا ہے کہ محب صادق بغیر کسی رکاوٹ کے برابر تند ہی سے مقصد کے حصول کے لئے جد و جہد کرتا چلا جاتا ہے۔آپ کے ایک اور شعر فرزانوں نے دنیا کے شہروں کو اجاڑا ہے آباد کریں گے اب دیوانے یہ ویرانے 267