قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 266 of 365

قسمت کے ثمار — Page 266

عشق ومحبت کے باب میں سب سے زیادہ شہرت پانے والا قیس عامری اپنے اصل نام سے زیادہ مجنوں کے نام سے مشہور ہوا تو اس کی وجہ بھی وہی ہوسکتی ہے، جو غالب کے الفاظ میں اوپر بیان ہو چکی ہے۔تصور جاناں کئے ہوئے بیٹھے رہنے، کے مضمون کو ایک اور مشہور شاعر نے اس طرح بھی باندھا ہے۔میں چلا شراب خانے جہاں کوئی غم نہیں ہے جسے دیکھنی ہو جنت مرے ساتھ ساتھ آئے غرضیکہ عشق یا خلل دماغ اور عشق یا بے کاری و بے عملی مترادف ہی قرار دیئے جاتے ہیں اور یہ بات اردو شاعری یا اردو ادب تک ہی محدود نہیں۔فارسی عربی بلکہ تمام مشرقی زبانوں کی شاعری میں جذبات کی تیزی و تندی کی وجہ سے یہی صورت حال نظر آتی ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسی الثانی علی یعنی اردو کے ایک قادر الکلام شاعر تھے۔کلام محمود کے نام سے آپ کے کلام کا مجموعہ اپنی افادیت و تاثیر کی وجہ سے بڑی کثرت سے برابر اشاعت پذیر ہورہا ہے۔آپ کی شاعری کا موضوع دین ہے۔اس وجہ سے معروف شاعرانہ مبالغہ یا لفاظی اور فرسودہ مضامین کا اس میں کوئی شائبہ تک نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کا کلام اپنے اندر تاثر و تغیر کی ایسی طاقت رکھتا ہے جس سے عام شاعری بالکل تہی دامن ہوتی ہے۔عشق کو بے کاری کی وجہ قرار دینے کی بجائے آپ نے کلام الہی کی روشنی میں حقیقی عشق و محبت کو بے کاری اور ستی کو دور کرنے اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کیلئے ہمیشہ کوشاں رہنے کا جذ بہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: عشق و بیکاری اکٹھے ہو نہیں سکتے کبھی عرصه سعی محبان تا ابد محدود اسی مضمون کو آپ نے ایک اور طرح باندھتے ہوئے فرمایا: ہے 266