قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 243 of 365

قسمت کے ثمار — Page 243

خدمت دین کو اک فضل الہی جانو حضرت اقدس مسیح موعود علیہا نے اپنی دینی خدمات کا سلسلہ تن تنہا شروع فرمایا۔آپ کی ابتدائی زندگی عبادت، مطالعہ کتب اور خدمت خلق کے لئے وقف تھی۔آپ اس زمانے کے حالات سے بہت زیادہ متفکر تھے۔ایک طرف مسلمانوں کی کمزوری، بے بسی ، بے عملی اور مایوسی کی کیفیت تھی۔دوسری طرف عیسائی پادریوں اور ہندو مناروں کی طرف سے اسلام پر بے جا حملوں کا ایک طوفان بر پا تھا۔مسلمانوں کی طرف سے یہی نہیں کہ کوئی باقاعدہ یا بے قاعدہ دفاع نہیں تھا بلکہ ستم ظریفی کی انتہاء یہ تھی کہ مسلمان یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ حضرت عیسی مالی نام آسمان پر زندہ اٹھالئے گئے۔اور وہ ہزاروں سال سے آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں اور آخری زمانہ میں مسلمانوں کی گمراہی کی اصلاح کے لئے وہ آسمان سے دوفرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔دنیا آپ کو اترتے ہوئے دیکھے گی۔وہ امام مہدی کے ساتھ مل کر کافروں کو نیست و نابود کر دیں گے اور اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا۔اس غلط اعتقاد کی موجودگی میں کسی اصلاحی تحریک یا جذبہ پیدا ہونے کی گنجائش ہی باقی نہ رہتی تھی۔آنے والے نے آکر خود ہی سب کچھ کر کے مسلمانوں کی حکومت قائم کردینی تھی اور مسلمانوں نے ان فتوحات سے اپنے خالی خزانوں کو بھر لینا تھا۔اور دونوں جہان کی سرخروئی حاصل کر لینی تھی۔اس عقیدہ سے عیسائی پادریوں کا کام بہت آسان ہو جا تا تھا اور وہ مسلمانوں کو بہکانے 243