قسمت کے ثمار — Page 244
میں بڑی آسانی سے کامیاب ہو جاتے تھے کہ (معاذ اللہ ) آپ کا رسول تو فوت ہو گیا اور زمین میں دفن ہو گیا مگر ہمارا رہنما فوت نہیں ہوا بلکہ اس نے موت پر فتح پائی اور آسمانوں پر چلا گیا اور اب وہی مسلمانوں کی اصلاح و بہتری کے لئے جلد واپس آنے والا ہے۔ہمہ عیسائیاں را از مقال خود مدد دادند دلیری با پدید آمد پرستاران میت را اس پس منظر میں حضرت مسیح موعود علینا) کو جو مشکلات اور تکالیف پیش آئی ہوں گی ان کا پوری طرح اندازہ کرنا بھی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔وہ مسلمان جو حضرت عیسی علیہ کی آمد پر بغیر کسی کوشش ، اصلاح و تبدیلی کے غلبہ وحکومت کے خواب دیکھ رہے تھے ان کو جگانا، صحیح راستہ پر لانا ، ان سے قربانیوں کا مطالبہ کرنا اور ان میں نیک و پاک تبدیلی پیدا کرنا جو ایک طرح سے مردوں کو زندہ کرنے کا کام تھا یقینا بہت ہی مشکل اور بہت ہی بڑا کام تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ تن تنہا یہ چومکھی لڑائی لڑ رہے تھے۔دعوی ماموریت کے بعد آپ کو نہایت جاں شار عقیدتمند عشاق بطور معاون و مددگار میسر آنے لگے۔حضرت مولانا نور الدین بنی یہ اپنی خاندانی وعلمی وجاہت کے باوصف ایک ادنیٰ خادم کی طرح حضور کے قدموں میں دھونی رما کر بیٹھ گئے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بنی ہی اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔واقفین کے اس گروہ میں آہستہ آہستہ ترقی ہوتی گئی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب بندی نہ لاہور میں ملازمت کرتے تھے مگر جب بھی کوئی چھٹی ہوتی حضور علیہ السلام کی خدمت میں دیوانہ وار حاضر ہو جاتے۔اپنے اس مجاہدہ میں آپ کو کئی دفعہ رات کی تاریکی میں بٹالہ سے قادیان تک پا پیادہ جانے کی سعادت بھی حاصل ہوتی رہی۔جبکہ وہ علاقہ اور راستہ اس زمانہ میں ہی نہیں بہت عرصہ بعد تک بھی سفر کرنے کے لحاظ سے بہت خطرناک 244