قسمت کے ثمار — Page 198
حضرت مرزا بشیر الدین محمود حدیبیہ کی نمائندگی میں بالعموم حضرت مفتی محمد صادق صاحب بینی لن یا کوئی اور بزرگ ضرور شامل ہوتے تھے۔یہ امر بھی ریکارڈ میں موجود ہے کہ آزادی کشمیر کی تحریک کے ابتدائی زمانہ میں اور پھر تحریک پاکستان کے سلسلہ میں جب یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے جذبات و مطالبات انگلستان کے ارباب حکومت اور معززین تک پہنچائے جائیں تو اس وقت اس کا واحد ذریعہ احمدی مبلغ ہی تھے جو اپنے تعلقات ، اپنے اثر ورسوخ اور اپنے بلند کردار کی وجہ سے اپنی آواز مؤثر رنگ میں ہر سطح پر باقاعدہ اور منظم طریق پر پہنچا سکتے تھے۔پاکستان کی تاریخ کا یہ باب حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد، حضرت مولوی فرزند علی خان صاحب اور حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے کار ہائے نمایاں کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔بانی پاکستان ، قائد اعظم کا یہ بہت مشہور قول ہے کہ پاکستان کی بنیاد تو اس دن پڑ گئی تھی جب ہندوستان میں اسلام داخل ہوا اور یہاں کوئی پہلا شخص مسلمان ہو گیا تھا۔اگر یہ بات درست ہے اور یقینا درست ہے تو اس بنیادی محاذ پر کام کرنے والا اور کوئی نہیں صرف اور صرف جماعت احمد یہ ہی تھی جسے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان اور بیرون ہندوستان اسلام کی تبلیغ کی سعادت حاصل ہوئی۔بلکہ اسلام مخالف تحریکوں کے جواب میں اگر کوئی سینہ ٹھونک کر سامنے آیا اور مخالفوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کی مخالفانہ سازشوں کا توڑ کیا تو یہ سعادت صرف جماعت احمدیہ کو ہی حاصل ہوئی۔آریہ سماج نے ہندوستان میں جب شدھی کی تحریک شروع کی اور مسلمانوں کو طرح طرح کے حیلوں بہانوں اور لالچ وغیرہ دلا کر ہندو بنانا شروع کیا تو ان کی ابتدائی کامیابیوں سے یوں نظر آتا تھا کہ کوئی بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ایسے میں ہندوستان کے دور دراز گوشے قادیان سے ہی تائید اسلام کی آواز اٹھی اور احمدی مجاہدین اسلام اس کربلا میں کفن بر دوش کود گئے اور تھوڑے ہی عرصہ میں نہ صرف یہ کہ شدھی کا زور توڑ کر رکھ دیا بلکہ آریوں کو لینے کے دینے پڑ گئے۔198