قسمت کے ثمار — Page 199
جماعت کی تاریخ تو ایسی ہی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ہندوستان میں عیسائی انگریز“ حکومت ہونے کی وجہ سے عیسائی پادریوں کے حوصلے بہت بلند ہو رہے تھے اور وہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ اس کے بعد مرکز اسلام پر بھی صلیب کا جھنڈا لہرانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔اس کے مقابلے کے لئے کسی دار العلوم اور کسی خانقاہ سے کوئی آواز نہ اٹھی اور اس سناٹے میں اگر کوئی آواز اٹھی تو وہ پر شوکت آواز مسیح وقت نے قادیان سے بلند کی تھی۔امرتسر کی جنگ مقدس، بشپ لاہور کو مقابلے کا چیلنج اور کسر صلیب کے دلائل کی کاٹ اتنی تیز اور مؤثر تھی کہ ہندوستان ہی نہیں خود مرکز عیسائیت میں کھلبلی مچ گئی اور اس کے بعد عیسائیت کی تبلیغ کا وہ رنگ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔اس جگہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب تک پاکستان کی سفارت پر اعزازی رنگ میں جماعت احمدیہ کا اثر رہا اس وقت تک پاکستان ایک ابھرتی ہوئی اسلامی طاقت کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔مگر سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے پاکستان دشمن طاقتوں نے پاکستان پر قبضہ جمالیا اور منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے، کے مطابق پاکستان اور قائد اعظم کی مخالفت کے داغ دھونے کے لئے ختم نبوت یعنی ایک خالص اسلامی مذہبی مسئلہ کوسیاسی رنگ دے کر جھوٹے پراپیگینڈہ کے طور پر اس پر قبضہ جمالیا اور پاکستان کے ہمدرد ، یہی خواہوں کو ایک طرف دھکیل دیا تو دنیا بھر میں پاکستان کی شہرت ان کی اپنی حالت وحقیقت کے مطابق نا قابل رشک ہو گئی اور یہ موازنہ بہت ایمان افروز اور حقیقت کشا ہے کہ پاکستان کی ساکھ اور شہرت پہلے بہتر تھی یا آج بہتر ہے۔فَاعْتَبِرُوا يَأُولِي الْأَبْصَارِ۔الفضل انٹرنیشنل 16 ستمبر 2005ء) 199