قسمت کے ثمار — Page 194
کہ اس ایک انسان کی قیادت ورہنمائی میں نہ صرف ارتداد کے فتنہ کا خاتمہ ہوا بلکہ مسلمانوں کی عظیم الشان فتوحات اور ترقیوں کا آغاز بھی ہوا۔اور اسلام کی ڈولتی ہوئی کشتی منجدھار سے نکل کر اپنے سفر پر تیزی سے چلنے لگی۔حضرت مسیح موعود علیہا نے حضرت ابوبکر بن الھن کے اس کارنامے کی وجہ سے ہی ان کو اسلام کا آدم ثانی قرار دیا ہے۔حضرت عثمان ذوالنورین بنای ختنہ کے عہد خلافت میں یہودی ریشہ دوانیوں اور قبائلی عصبیت کی وجہ سے بعض فتنے اور اختلافات شروع ہوئے۔حضرت عثمان بنی عنہ نے حضرت علی بنی شیشہ اور بعض دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے مشورہ کے باوجود ان فتنوں کو دور کر نے کے لئے تلوار نہ اٹھائی اور مسلمانوں کے باہم اتفاق و اتحاد کو بچانے کے لئے اپنی جان تک قربان کر دی۔اس کے بعد اختلافات کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حضرت علی بنی شیشتن ، چوتھے خلیفہ بھی اس بدامنی کی بھینٹ چڑھ گئے اور اس کے بعد مسلمان خلافت کی نعمت سے محروم ہو گئے اور باوجود اس کے کہ ابھی بعض اکابر صحابہ مسلمانوں میں موجود تھے ، قرآن مجید موجود تھا ، علمائے کرام موجو تھے مگر برکات خلافت کم ہوتی چلی گئیں جس کی وجہ سے عالم اسلام نے ایک ہزار سال کا عرصہ ایک تاریکی کی حالت میں گزارا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میں اس ایک ہزار سالہ دور کو فیج اعوج“ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔جہاں اس دور کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی موجود تھی وہاں یہ بھی ذکر تھا کہ اس دور کا خاتمہ مہدی با کی آمد سے ہوگا۔امت کی شدید ترین گراوٹ اور زبوں حالی کے بعد اس کی بہتری کے لئے کام کرنے والے کے کام کی عظمت اور اہمیت اور اس کی مشکلات کا اندازہ کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص آپ کو سلام پہنچانے کی تاکید فرمائی۔جو مہدی ان کے سکون واطمینان کا باعث وسبب ہی نہیں بلکہ آپ کی کامیابی کی بھی نوید تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود مالیات نے نشاة ثانیہ کی مہم جاری فرمائی تو سب سے زیادہ مخالفت بھی 194