قسمت کے ثمار — Page 193
آسمانی تائید و نصرت خلافت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمہ جہت بہترین و مکمل شخصیت کے مالک تھے۔آپ مالی می ایستم کی خدا داد صلاحیتیں اتنی نمایاں اور مؤثر ہیں کہ آپ کا ہر ملنے والا ضرور آپ صلی الہیم سے متاثر ہوتا۔سعید روحیں اس کی بدولت حلقہ بگوش اسلام ہو کر آپ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کے لئے آپ کے حلقہ عقیدت و محبت میں شامل ہو کر دین ودنیا کی سعادتوں و برکتوں سے بہرہ یاب ہوتیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی صحابہ بیان سے محبت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی اپنے آقا پر فدائیت تاریخ مذاہب کا ایک ایسا باب ہے جس کی مثال کسی اور جگہ تلاش کرنا عبث و بیکار ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات آپ صلی یا پی ایم کے عشاق کے لئے ایک نا قابل یقین سانحہ تھا جس کے مختلف رد عمل تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ایک نہایت دلخراش رد عمل یہ بھی ہوا کہ بہت سے قبائل نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم زکوۃ ادا نہیں کریں گے۔اسی طرح تاریخ بتاتی ہے کہ نماز باجماعت سارے عرب میں صرف تین جگہ باقی رہ گئی۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عدیم المثال کامیابی کے بعد اور اسلام کی جلد جلد اشاعت و مقبولیت کے بعد یہ صورت حال کیوں پیش آئی۔اس کے مختلف جواب ہو سکتے ہیں مگر ایک امر جو بہت ہی واضح ہو کر ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ اس انتہائی خوفناک صورتحال میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق مسلمانوں کو خلافت کی نعمت عطا فرمائی اور حضرت ابوبکر بنی ہشمند خلیفہ اول مقرر ہوئے۔دنیا نے دیکھا 193