قسمت کے ثمار — Page 161
طور سے آپ کی مدد اور حمایت کرتا ہے جیسے وہ قدیم سے اپنے برگزیدوں اور مقربوں اور بھگتوں اور خاص بندوں سے کرتا آیا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول ص 92 تا94) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو ہمیشہ اشاعت تبلیغ اسلام کے مواقع کی تلاش میں رہتے تھے اس پیشکش کو قبول فرماتے ہوئے لکھا: وو۔۔۔آپ صاحبوں کا عنایت نامہ جس میں آپ نے آسمانی نشانوں کے دیکھنے کے لئے درخواست کی ہے مجھ کو ملا۔۔۔بہ تمام تر شکر گزاری اس کے مضمون کو قبول و منظور کرتا ہوں اور آپ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر آپ صاحبان ان عہود کے پابندرہیں گے جو اپنے خط میں آپ لوگ کر چکے ہیں تو ضرور خدائے قادر مطلق جلشانہ کی تائید و نصرت سے ایک سال تک کوئی ایسا نشان اسکو دکھلا دیا جائے گا جو انسانی طاقت سے بالا تر ہو۔۔۔اے قادر مطلق وکریم ورحیم ہم میں اور ان میں سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور کوئی نہیں کہ بجز تیرے فیصلہ کر سکے۔آمین ثم آمین۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه 95-96 ) حضور عالم خصوصی دعاؤں کے لئے ہوشیار پور تشریف لے گئے اور وہاں چالیس روز تک دوسرے کاموں سے الگ ہو کر اثبات حقیقت اسلام کے لئے کسی غیر معمولی نشان کے ظاہر ہونے کے لئے دعائیں کرتے رہے۔ان دعاؤں کے نتیجہ میں آپ کو بہت برکتیں اور افضال حاصل ہوئے جن میں سے ایک وہ پیشگوئی بھی تھی جو عام طور پر پیشگوئی مصلح موعود کے نام۔مشہور ہے اور آپ نے 20 فروری 1886ء کو ایک اشتہار میں شائع فرمائی اور ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے: ” خدائے رحیم وکریم بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے(جل شانہ وعزاسمہ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا 161