قسمت کے ثمار — Page 134
حقیقی خوشی ہمارے پیارے امام حضرت خلیفہ اسی انجام ایدہ اللہ بصرہ العزیز نےاپنے اثر انگیز خطبہ عید الفطر فرموده 14 نومبر 2004 ء میں رمضان کے گنتی کے دنوں میں معمولی سی قربانی پیش کرنے یا خدا تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کے نتیجہ میں عید کی خوشی ملنے کا ذکر کرتے ہوئے تلقین فرمائی کہ نماز باجماعت کا اہتمام، تلاوت قرآن مجید کی کثرت اور دوسری عبادات اور دعاؤں کا جوطریق رمضان میں شروع ہوا تھا اسے آئندہ بھی جاری رکھنے کی کوشش کی جائے۔خدا تعالیٰ کی خاطر قربانی کرنے والوں کی قربانی کی قبولیت ایسا امر ہے جو اپنے پیچھے ایک لمبی تاریخ رکھتا ہے اور جب سے مذہب کی تاریخ محفوظ ہے یہ مثالیں بھی موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ بے غرض قربانی کبھی ضائع نہیں جانے دیتا بلکہ اسے شرف قبولیت بخشتے ہوئے بعد میں آنے والوں کے لئے اچھی مثال کے طور پر محفوظ کر دیتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل ان کے شامل حال ہوا اور نسلاً بعد نسل خدائی انعامات واحسانات کا سلسلہ ان کی اولاد میں جاری ہو گیا یہاں تک کہ خاتم النبیین ، رحمۃ للعالمین سالی تم جیسا عظیم الشان وجود ان کی اولاد میں ظاہر ہوا اور آپ صلی یا ایہ امام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی عظمت کو ظاہر کرتے ہوئے فرمایا 134