قسمت کے ثمار — Page 135
آنا دعوة أبى ابراهیم کہ میں اپنے بزرگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کا اظہار ونشان ہوں۔ابراهیمی برکات کے تسلسل اور آنحضرت سلانا ہی ایم کی پیش خبریوں کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوا تو جماعت احمدیہ کو یہ انعام ملا کہ باقی لوگ ابھی تک انتظار اور شک کی کیفیت میں وقت ضائع کر رہے ہیں مگر احمدی اس انعام الہی پر شکر ادا کرتے ہوئے اس کی برکات سے متمتع ہورہے ہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے احسانات میں سے ایک بہت بڑا احسان ایک امام کا وجود اور ایک جماعت کا قیام ہے اور یہ ایسا بے مثال مقام شکر و خوشی ہے جس پر ہم جتنا بھی خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں کم ہے۔ہمارا نہایت محکم و مضبوط نظام جماعت ایک واجب الاطاعت امام کا مرہون منت ہے۔خلافت کی برکت سے جماعت میں اتحاد و یک جہتی کی ایسی فضا پیدا ہوتی ہے جو اس کے بغیر کسی بھی اور ذریعہ سے ممکن نہیں ہے۔قرآن مجید نے اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم روئے زمین کے سب خزانوں کو خرچ کر دو تب بھی باہم محبت و ہمدردی حاصل نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے امام کو ہماری بہتری اور بھلائی کی ہر وقت فکر رہتی ہے۔دنیا کے کسی کونے میں بسنے والا بظاہر بے یارومددگار غریب احمدی بھی اپنے امام کی دعائیں اور نیک خواہشات اور حسب ضرورت ہمدردی ورہنمائی حاصل کرتا ہے۔اسی طرح پیارے امام کو دنیا بھر سے دعا ئیں اور نیک خواہشات ملتی رہتی ہیں۔دوطرفہ محبت کے یہ نظارے تو خلافت کی برکت سے ہمیشہ ہی دیکھنے میں آتے تھے مگر اب تو MTA کے ذریعہ ایسے بے مثال دلکش نظارے زیادہ واضح اور زیادہ نمایاں اور زیادہ وسیع ہو کر دکھائی دینے لگے ہیں۔دنیا میں کوئی عید کا اجتماع ایسا نہیں ہوتا جسے دنیا بھر میں دیکھ کر اس سے خوشی حاصل کی جاسکتی ہو۔عید کے بابرکت موقع پر مسجد بیت الفتوح لندن اپنی ساری وسعتوں اور سہولتوں کے باوجود چھوٹی اور تنگ نظر آ رہی تھی اور ہمارے پیارے 135