قسمت کے ثمار — Page 133
مثلاً مکرم مرزا منور صاحب اور مکرم قریشی محمد اسلم صاحب نے امریکہ میں، مکرم مولوی محمد دین صاحب نے جہاد کے میدان میں جاتے ہوئے دوران سفر میں ،شہزادہ عبدالمجید صاحب نے ایران میں ،حضرت مولوی نذیر احمد صاحب علی نے افریقہ میں جام شہادت نوش کیا اور ہمارے لئے ایک نمونہ چھوڑ گئے بلکہ چیلنج چھوڑ گئے کہ اپنے مفوضہ فرائض کی ادا ئیگی اس طرح کیا کرتے ہیں۔مالی قربانی کے متعلق بھی جماعت کا نمونہ مثالی تھا۔ہمارے اولوالعزم امام نے تو تین سال کے عرصہ میں 27 ہزار روپے کا مطالبہ کیا تھا مگر جماعت نے نہایت غربت و مشکلات کے باوجود ایک لاکھ روپے پیش کر دئے۔ایک لاکھ روپے کی رقم آج کل تو زیادہ نہیں لگتی مگر اس زمانے میں جب سات ساڑھے سات روپے ماہوار آمدنی معقول آمدنی سمجھی جاتی تھی اور گندم دواڑھائی روپے من مل جایا کرتی تھی یہ بہت بڑی رقم تھی۔انہی قربانیوں کا صدقہ ہے کہ آج ملکوں ملکوں احمدیت لہلہا رہی ہے۔اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نئے سال میں داخل ہورہے ہیں۔خدا کرے کہ یہ سال اور آئندہ آنے والا ہر سال جماعتی روایات میں ہر لحاظ سے غیر معمولی اضافہ کا باعث ہو۔آمین الفضل انٹرنیشنل 19 نومبر 2004ء ) 00 133