قسمت کے ثمار — Page 113
اجنبی یا عام سائل نہیں بلکہ حضور کی اپنی پیاری بیٹی ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہ حضور سال لا پیام کبھی بھی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا کرتے تھے بلکہ آپ سے سوال کرنے والوں نے تو اپنے تجربہ کی بناء پر یہ بھی شہادت دی کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر کوئی سخی یہ کبھی ہوا اور نہ ہی کبھی ہوگا۔حضور صل للہ السلام نے حضرت فاطمہ رضی اللہ کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تمہاری مشکل کا بہترین حل یا تمہارے سوال کا بہترین جواب یہ ہے ہر نماز کے بعد 33 دفعہ سُبْحَانَ الله اور 33 دفعہ الْحَمْدُ لِله اور 34 دفعہ اللهُ أَكْبَرُ کا ورد کیا کرو۔اس طرح حضور صلیہ السلام نے ان کو ذہن نشین کر وایا کہ ذکر الہی کے نتیجہ میں انسان کو سکون اطمینان اور قناعت کی دولت ملتی ہے وہی انسان کی ہر مشکل کا حل اور خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ذریعہ ہے۔حدیث سے ہی یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب مسابقت الی الخیر کے جذبہ سے سرشار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین حضوسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ہم میں سے جو اہل ثروت ہیں وہ نیکیوں میں ہم سے سبقت لے جاتے ہیں کیونکہ ایسے امور جو مالی سہولت کی وجہ سے انجام دیئے جاسکتے ہیں اسمیں وہ ہم سے بازی لے جاتے ہیں اور ہم باوجود خواہش اور کوشش کے ایسی باتوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔حضورصلی میں پی ایم نے اہل ثروت کی زائد نیکیوں کے برابر ہونے کے لئے غریب صحابہ کے لئے وہی طریق تجویز فرمایا جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے۔غریب صحابہ بہت خوش ہوئے اور ذکر الہی سے سکون و اطمینان اور قرب الہی کے حصول کے لئے کوشاں ہو گئے اور قناعت کی دولت سے مالا مال ہو گئے۔البتہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب اہل ثروت صحابہ کرام بنی ان کو اس امر کا پتہ چلا تو وہ بھی اس نسخہ کیمیا کو پورے ذوق وشوق سے استعمال کرنے لگے۔دنیوی اموال کی اہمیت وضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔آنحضرت سالیا پیہم بھی مختلف قومی اہمیت کے منصوبوں کی تکمیل کے لئے چندوں کی تحریک فرمایا کرتے تھے۔مگر وہ قومیں یا افراد جو 113