قسمت کے ثمار — Page 114
سب کچھ بھول کر دنیوی اموال اور ان سے حاصل ہونے والی آرام واسائش کو ہی اپنا مقصد وطح نظر سمجھنے لگے وہ مال و دولت کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی آسائشوں اور تن آسانیوں کی وجہ سے کاہلی ہستی کا شکار ہو گئے ، باہم پیار ومحبت اور اتحاد سے محروم ہو کر نفرت وتشتت کا شکار ہو گئے۔علو ہمتی و بلند نظری سے محروم ہو کر یا تو صفحہ ہستی سے نابود ہو گئے یا نشان عبرت بنا دیئے گئے۔چھوڑ دو حرص کرو زهد و قناعت پیدا زر نہ محبوب بنے سیم دل آرام نہ ہو رغبت دل سے ہو پابند نماز و روزه نظر انداز کوئی حصہ احکام نہ ہو پاس ہو مال تو دو اس سے زکوۃ و صدقہ فکر مسکیں رہے تم کو غم ایام نہ ہو الفضل انٹرنیشنل 10 ستمبر 2004ء) 00 114