قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 272 of 365

قسمت کے ثمار — Page 272

لگتا کہ احمدیہ چوک بھی ان کے پیچھے پیچھے لپک لپک کر جلسہ گاہ میں پہنچ گیا ہے۔یہ لکھنے کی توضرورت نہیں ہے کہ حضرت صاحب بینی کے خطاب کے وقت جلسہ گاہ اپنی تمام وسعت و فراخی کے باوجود تنگ پڑ جایا کرتا اور ہر سال ہی یہ نظارہ دیکھنے کو ملتا بلکہ ایک دفعہ تو یہ بھی ہوا کہ حضرت صاحب بیایند تقریر کرنے کیلئے تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ مشتاقان دید کو جلسہ گاہ کے باہر کھڑے ہو کر تقریر سننا ہوگی۔آپ نے فرمایا کہ اگر جلسہ گاہ کو وسیع نہ کیا گیا تو آپ اگلے روز اپنے دوسرے خطاب کیلئے تشریف نہ لائیں گے۔قادیان کے دن بھر کے تھکے ہوئے رضا کاروں نے۔(جن میں اکثریت طالب علموں کی تھی اور دکاندار وغیرہ بھی شامل تھے ) شدید سردی اور تکان کے باوجود رات رات میں ہی پہلے جلسہ گاہ کی گیلریوں کو گرا کر صبح ہونے تک ایک وسیع تر جلسہ گاہ تیار کر کے اپنے امام سے خوشنودی کے سرٹیفکیٹ اور تمغے حاصل کئے۔احمد یہ چوک کا ایک اور جان فزا اور روح پرور نظارہ یہ بھی تھا کہ جلسہ کے اوقات سے پہلے اور بعد میں وہاں احمدی شعرا کا کلام خوش الحانی سے اپنے شوق سے پڑھنے والے پڑھتے اور سننے والے بڑے شوق سے سنتے اور استفادہ کرتے۔بعض عشاق قیام گاہوں میں جا کر اپنے وعظوں اور دلچسپ علمی چٹکلوں سے احباب کی ضیافت طبع کا سامان مہیا کرتے۔اس کے لئے کوئی باقاعدہ پروگرام نہیں ہوتا تھا بلکہ شوق وطلب کی وجہ سے از خود ہی یہ سارا کام خلوص و محبت سے انجام پار ہا ہوتا تھا اور کسی کی طبیعت پر کسی طرح بھی گراں نہ گزرتا۔جلسہ سالانہ کی پرانی یادوں کا مرکزی نقطہ تو حضرت امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفہ ضرت خلیفۃ المسیح الثانی بینہ کے وہ خطاب تھے جو گھنٹوں جاری رہتے اور سننے والے اس طرح محو ہو کر سنتے کہ وقت کا احساس تو دور کی بات ہے انہیں حوائج ضرور یہ بھی بھول رہے ہوتے۔شدید سردی اور بعض اوقات تیز بارش میں اندھیرا چھا جانے کے باوجود عشاق احمدیت کی خواہش یہی ہوتی تھی کہ ہمارا محبوب امام پھول بکھیر تا چلا جائے اور اپنا وجد آفرین بیان جاری رکھے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ دنیا بھر کے مختلف مراکز میں اپنی روایتی شان سے جاری 272