قسمت کے ثمار — Page 273
ہے بلکہ موجودہ زمانے کی سہولتوں اور ایجادات سے اس کی افادیت کے نئے نئے پہلو نمایاں ہوتے جار ہے ہیں اور شمع احمدیت کے پروانے جو پیدل دشوار گزار سفر کی وجہ سے پاؤں کے چھالوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے اب بھی پاسپورٹ ، ویزا اور دوسری بے شمار مشکلات اخراجات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جلسہ کی رونق میں اضافہ کرتے اور اپنی محبت و عقیدت کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ شرف قبول عطا فرما دے۔(روزنامه الفضل ربوه جلسه سالانه نمبر 1994ء) مهمان نوازی صحرائی عرب معاشرہ میں مہمان نوازی کو بہت بڑی خوبی اور شرافت و نجابت کی علامت سمجھا جا تا تھا عرب اس بات پر فخر کرتے تھے کہ ان کے قبیلہ کی آگ ہمیشہ جلتی رہتی ہے اور کوئی مہمان کہیں سے بھی آجائے اس کی حفاظت اور ہر طرح کی خبر گیری اس آئین فطرت میں شامل تھی جو کاغذ قلم سے تو محروم تھا لیکن عمل سے کبھی محروم نہ رہا۔عربوں کی مہمان نوازی کا تو یہ حال تھا کہ اگر کسی عرب سردار کے بیٹے کا قاتل سردار کی لاعلمی میں اس کا مہمان بن جاتا تو قصاص و بدلہ کی روایت کو انتہا تک پہنچانے والے بھی قاتل مہمان کو اکرام سے ہی رخصت کرتے۔ایک ایسی ہی روایت کے مطابق عرب کے ایک مشہور سردار ( جو اپنی سخاوت و مہمان نوازی کی وجہ سے افسانوی شہرت کے حامل تھے ) کے پاس ایک دوسرے سردار نے یہ جان کر کہ انہیں اپنا گھوڑا بہت ہی عزیز ہے بعض لوگوں کو ان کے ہاں بھجوایا کہ وہ ان سے یہ گھوڑا مانگ کر اس کی سخاوت کا امتحان کریں۔کہتے ہیں کہ جب یہ مہمان اس عظیم سنی سردار کے ہاں پہنچے تو اس وقت اتفاق سے مہمان نوازی کا معمول کے 273