قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 271 of 365

قسمت کے ثمار — Page 271

محسوس ہی کیا جاسکتا ہے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ہر نماز سے پہلے اور بعد جلسہ کی تقاریر کے پروگرام سے پہلے بعد اور درمیان میں احمد یہ چوک عجیب نظارہ کی جلوہ گاہ بن جاتی۔دیرینہ شناسا، پرانے واقف نئے شامل ہونے والے ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں اور بآواز بلند ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں دے رہے ہوتے۔اس حال میں کہ ان کے چہرے غیر معمولی سکون واطمینان اور ایمان وایقان کے نور سے منور ہوتے۔آپس میں گلے ملنے والوں میں مختلف زبانوں، لباسوں اور شکلوں والے لوگ شامل تھے۔مگر ان کے باہم پیار و خلوص کو دیکھ کر کبھی یہ وہم بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ زبان اور رنگ کا اختلاف با ہمی نفرت و بغض کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔احمد یہ چوک بظاہر تو تنگ تنگ سڑکوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا چوک تھا لیکن وسعت و فراخی حوصلہ کے جو نظارے وہاں نظر آتے تھے ان کی وسعت و فراخی اور گہرائی کو ناپنے کے لئے ابھی انسانی ذہن نے کوئی کمپیوٹر ایجاد نہیں کیا۔احمد یہ چوک میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔برسوں بعد ملنے والے ایک دوسرے کی خیریت معلوم کر رہے ہیں۔ادھر ادھر آنے جانے والوں کو مشکل سے راستہ مل رہا ہے کہ اچانک سب لوگوں کی توجہ اپنی باتوں اور کاموں سے ہٹ کر کسی اور طرف ہو جاتی ہے۔وہاں موجود سب خوش قسمت بڑے ادب و احترام کے ساتھ ایک طرف ہو کر رستہ بنا رہے ہیں اور ” حضرت صاحب آگئے ، حضرت صاحب آگئے“ کی آواز آتی ہے۔ایک بہت پاکیزہ صورت بزرگ’الدار سے باہر آتے ہیں۔کبھی مسجد مبارک سے باہر آتے ہوئے نظر آتے ہیں کبھی جلسہ گاہ جاتے ہوئے یا آتے ہوئے نظر آتے ہیں۔کسی جلسہ کے انتظامات کا معائنہ کرنے کیلئے جارہے ہوتے ہیں۔بغیر کسی افراتفری اور شور وشغب یا منتظمین کی بھاگ دوڑ کے ہر شخص ہر وقت ان کو ایک نظر دیکھنے کے شوق میں بڑا مودب و پر شد ہو کر اپنی جگہ کھڑا ہوجاتا اور ہمارے آقا حضرت امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی سالانہ ایک عجب شان دلربائی سے بڑی پیاری مسکراہٹ سجائے ہوئے خوشی ومسرت بخشتے ہوئے نکل جاتے اور جلسہ کا وقت ہوتا تو یوں 271