قسمت کے ثمار — Page 169
مگر قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ کرنے والے خدا نے اپنے وعدہ کو یادرکھا اور اس انتہائی مایوسی اور کسمپرسی کے عالم میں قادیان سے یہ آواز بلند ہوئی۔قوم کے لوگو ادھر آؤ کہ نکلا آفتاب وادئ ظلمت میں کیوں بیٹھے ہو تم لیل و نہار تشنہ بیٹھے ہو کنار جوئے شیریں حیف ہے سر زمین ہند میں چلتی ہے نہر خوشگوار یہ کوئی معمولی آواز نہ تھی۔اس آواز میں خدائی طاقت ونصرت جلوہ گر تھی۔وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار دنیا نے اسلام کی تعلیم کے حسن و خوبصورتی کا پھر سے نظارہ کیا۔سیرت مقدسہ کی عظمت ظاہر ہونے لگی۔قرآن مجید کی اعجازی شان نمایاں ہونے لگی۔عیسائیوں کے بڑھتے ہوئے پاؤں رک ہی نہیں گئے بلکہ صحیح اسلامی عقائد اور قرآنی علم کلام کے سامنے ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔آریوں کو ان کے بگڑے ہوئے عقائد جیسے روحوں کا ازلی ابدی ہونا اور نیوگ وغیرہ کی حقیقت بتائی گئی تو مسلمانوں کو ہندو بنانے کی بجائے انہیں اپنی پڑ گئی۔دوستو اس یار نے دیں کی مصیبت دیکھ لی آئیں گے اس باغ کے اب جلد لہرانے کے دن اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا اب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کے کھانے کے دن الفضل انٹرنیشنل 25 مارچ 2005ء 169