قسمت کے ثمار — Page 168
مسلمانوں کی بہتری کے لئے کوئی اجتماعی کوشش تاریخ میں نہیں ملتی۔بعض مخلص اور دردمند دل رکھنے والوں نے انفرادی کوشش کی یا 1875ء میں نہایت بے تدبیری اور افراتفری میں بغیر کسی سکیم یا قابل اعتماد قیادت کے انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کی جو کوشش کی گئی وہ مسلمانوں کے لئے اور زیادہ مشکلات کا باعث بن گئی۔مسلمان جو علم اور عمل میں پہلے ہی بہت پیچھے تھے وہ نا قابل اعتبار اور نا قابل اعتماد سمجھے جانے لگے۔اس انتہائی تکلیف دہ اور مایوس کن صورت حال نے عیسائی مبلغین کی توجہ ہندوستان کی طرف مبذول کرائی اور مختلف عیسائی فرقوں اور حکومتوں نے ہندوستان میں عیسائیت کی تبلیغ کے لئے ایک وسیع جال پھیلا دیا۔ان عیسائی مبلغوں کو بے پناہ وسائل حاصل تھے۔عیسائی حکومتیں ان کی پشت پر تھیں۔اس ظاہری شان وشوکت اور احساس برتری سے مالامال عیسائی مبلغین کا رستہ روکنے والا کوئی بھی نہ تھا۔ان مبلغین کو مسلمانوں کے اس عقیدہ کی وجہ سے کہ حضرت عیسی آسمان پر زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں دوبارہ اصلاح خلق کے لئے بھیجے جائیں گے، بہت تقویت حاصل ہوتی رہی اور ان کو یہ یقین ہو گیا کہ یہاں پر زمین تو پہلے ہی تیار ہے ہم بہت جلد ہندوستان کو فتح کر کے صلیب کا جھنڈا اسلامی ملکوں میں بھی گاڑ دیں گے۔ہندوستان کے ہندو جو پیدائشی اور رسمی طور پر ہندو تھے وہ بھی آریہ سماج کے نام سے اپنے مذہب کی تبلیغ آمادہ پرکار ہو گئے۔ہندو تجارت صنعت ،سیاست ہرمیدان میں مسلمانوں سے آگے تھے۔ان کی تعداد بھی زیادہ تھی۔یہی وجہ ہے کہ ان کے مقابل پر مسلمان ہزیمت خوردہ نظر آرہے تھے۔مسلمان بالعموم ہندوؤں کے مقروض تھے اور ان کی تھوڑی بہت جائیداد اور زمینیں بھی آہستہ آہستہ ہندوؤں کے قبضہ میں جارہی تھیں اور ان کے خوفناک سودی کاروبار کی وجہ سے ان کی اقتصادی حالت بہتر ہوتی جارہی تھی اور مسلمان ہر لحاظ سے رو بہ زوال تھے۔اس انتہائی مہیب اور خوفناک سنائے اور تاریکی کی وجہ سے کہنے والوں نے اسلام کا مرثیہ تک کہہ ڈالا اور اس طرح اپنے عجز و درماندگی کے اعتراف کے علاوہ عملاً یہ تسلیم کر لیا کہ ان کے خیال میں مسلمانوں کی حالت نا قابل اصلاح ہو چکی تھی۔168