قسمت کے ثمار — Page 158
اپنی جانوں اور اموال کی حفاظت کو متقدم سمجھا اور پاکستان آکر بڑی بڑی جائیداد میں حاصل کرنے اور مساجد و مدرسوں کے نام پر اپنے کاروبار چمکانے شروع کر دئے۔قادیان کے ماحول میں بڑی بڑی گڑیاں اور خانقاہیں بھی پائی جاتی تھیں جہاں بہت بڑی تعداد میں نذرانے اور چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے اور سالانہ عرس بڑی شان و شوکت سے منائے جاتے تھے۔اب بٹالہ شریف، مسانیاں شریف اور رتڑ چھتڑ کی گدیاں خالی اور ویران ہوگئیں اور ان مقامات کی بزرگی اور تقدس کے قصیدے پڑھنے والے اپنے بزرگوں کے مزاروں کو ہندوؤں اور سکھوں کی تحویل میں دے کر اپنی جان بچا کر بھاگ گئے۔مگر وہ خدائی کو نیل جو قادیان سے پھوٹی تھی ، جس پر مخالفت کی آندھیاں روز اول سے ہی چلنا شروع ہوگئی تھیں وہ ان مخالف حالات میں بھی مارنے والے سے بچانے والا زیادہ قابل اعتماد ہے پر ایمان ویقین کی وجہ سے وہاں سے بھاگ کر آنے کو اپنی موت اور ہلاکت سے بدتر سمجھتے ہوئے مخالفانہ نعروں اور تلواروں کے سائے میں اپنی گردن خدا کے آگے جھکائے ہوئے هَذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ (الأحزاب: 23) یہ تو وہی حالت ہے جس کا خدا اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے۔کا ورد کرتے ہوئے اپنے ایمانوں اور قربانیوں میں پہلے سے بھی آگے قدم بڑھاتے چلے گئے۔خدا تعالیٰ نے ان کی قربانی کو قبول فرما یا اور اس مقدس مقام کو ویران وبے آباد ہونے سے بچا لیا۔درمیانی حالات وواقعات بھی بہت ایمان افروز ہیں تاہم ان پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ لکھا جائے گا۔مگر اس جلسہ سالانہ پر ہم نے جو ایمان افروز نظارے دیکھے وہ خدائی فضلوں اور احسانوں کا ایک بے مثال جلوہ تھا۔حضرت خلیفہ مسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز قادیان کے گلی کوچوں میں بڑی محبت اور عقیدت سے جلوہ افروز تھے۔دنیا بھر سے پروانے شمع احمدیت کے طواف کے لئے موسم کی سختیوں اور سفر کی صعوبتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک بہت بڑی تعداد میں پہنچ کر زبان حال سے آنحضرت سال اینم کی پیش خبریوں اور اسلام واحمدیت کی سچائی کا اعلان کر رہے تھے۔158