قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 157 of 365

قسمت کے ثمار — Page 157

رسالے جاری ہو گئے، بجلی اور تار برقی کی سہولت حاصل ہوگئی ، ریل کا سٹیشن بن گیا ، سکول اور کالج شروع ہو گئے، کئی کارخانے لگ گئے اور اس طرح خدائی بشارتوں کے پورا ہونے سے دنیا بھر کے احمدیوں کے حوصلے بلند ہوئے اور تبلیغ واشاعت کے کام میں ترقی ہونے لگی۔مگر اس کے بعد ودائع ہجرت کی الہامی پیشگوئی پوری ہونے کا وقت آیا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی الیہ اور جماعت کا اکثر حصہ اس محبوب جگہ سے ہجرت کر کے پاکستان آ گیا۔مگر ہمارے اولوالعزم رہنما نے جہاں ایک طرف پاکستان میں آنے والے بے سروسامان احمدیوں کی آبادکاری اور ایک وادی تغیر ذی زرع میں ربوہ شہر بسانے کا ڈول ڈالا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک شہر آباد ہو گیا حالانکہ اس کے مقابل پر حکومتی منصوبے ڈانواڈول ہوتے رہے اور احمدیت کے مخالفوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور پوری کوشش کی کہ احمدیوں کے کہیں پاؤں نہ لگیں مگر انسانی کوششوں پر خدائی ارادے غالب آئے اور ”ربوہ“ ایک زندہ اور دائی معجزہ کے طور پر قائم ہو گیا۔اس نہایت مشکل وقت میں بھی حضور قادیان کی آبادی اور حفاظت کے فرض سے کسی لمحہ بھی غافل نہ ہوئے اور آپ کی تفصیلی ہدایات اور رہنمائی کی روشنی میں 313 درویشوں نے ساری جماعت کی نمائندگی میں ایسی حالت میں اپنے آپ کو پیش کر دیا کہ ان کے زندہ رہنے سے ان کے مرجانے کے امکانات کہیں زیادہ اور کہیں یقینی تھے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ان درویشوں کے ذریعہ دنیا کے اس کو نہ میں اذان کی آواز میں برابر آتی رہیں۔مرکزی مساجد برابر آباد در ہیں۔خدمت دین کا کام بھی جاری رہا۔اس کام کی عظمت و شان اس سے ظاہر ہے کہ تقسیم برصغیر سے قبل بٹالہ ، امرتسر اور لدھیانہ وغیرہ مشرقی پنجاب کے مشہور شہروں میں بہت سے اسلامی مدر سے اور مشہور علماء موجود تھے۔ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جو احمدیت کی مخالفت کو ہی اپنے لئے وجہ شہرت سمجھتے تھے۔مگر ملک کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں وہ ادھر ادھر بکھر کر رہ گئے۔انہوں نے پیش آمدہ مشکل حالات میں خدا اور اس کے رسول صلیہما السلام کی خاطر قربانی پیش کرنے کی نسبت 157