قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 45 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 45

آف سوشل سروسز کی ایک رپورٹ کی طرف آپ کو متوجہ کرتا ہوں ، جو لکھتے ہیں کہ انگلستان میں ۱۹۱۵ ء میں ایک قانون نیا اور وہ قانون ایک مجسٹریٹ کے فیصلے کی شکل میں ظاہر ہوا۔جس نے یہ فیصلہ دیا۔کہ خاوند اپنی لڑنے والی بیوی کو مار سکتا ہے۔جہاں تک اس بات ** کا تعلق ہے۔یہ وہی بات ہے جو قرآن کریم نے پیش کی تھی۔اور جس پر یورپ نے اتنا دا دیلا مچایا۔لیکن قرآن کریم نے بعض شرطیں ساتھ رکھ کر اس تعلیم کی تلخی کو غائب کر دیا تھا۔مگر انہوں نے جو شرہ کہ کسی انگلستان میں شاہ میں کہ مار تو سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جس چھڑی سے مارے وہ مرد کے انگوٹھے کی موٹائی سے زیادہ نہ ہو۔کتنی دفعہ مارے کہاں کہاں مارے کہاں نہ مارے کیا گیا احتیاطیں کریں۔کوئی اور ذکر نہیں۔اور آپ جانتے ہیں کہ یہاں کے جو زمیندار ہیں۔ان کے انگوٹھے ہماری دو دو تین تین انگلیوں کے برابر ہوتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ بعض رفع دیکھیں تو ہماری انگوٹھیاں جو الیس اللہ کی ہمیں آرام سے آجاتی ہیں۔درمیانی بڑی انگلی ہیں۔وہ جب تحفہ ان کو بعض دفعہ دینا پڑتا ہے۔تو ان کی چھن گلی میں بھی پوری نہیں آتی۔تو اتنی موٹی سوئی آرام سے بن جائے گی۔اس سے جتنا چاہو مارو۔یہ اس صدی کا سف191 کا قانون ہے۔جو یہاں رائج ہوا تھا۔اور یہ قانون پھر اسی طرح جاری رہا۔یہ تبدیل نہیں ہوا۔اہ میں ابھی کل کی بات ہے۔پہلی دفعہ عورتوں نے DOMESTIC V OLENCE ڈومیٹک وائیلنس کے خلاف جدوجہد کا آغانہ کیا اور ایک ایسوی ایشن بنائی۔اور انگلستان کو تہذیب سکھانے کی کوشش کی شہ میں پہلی دفعہ ان کوششوں کا آغانہ ہوتا ہے۔اور ہ تک ان کوششوں کے کیا نتائج ظاہر ہوئے تھے ان کے متعلق میں آپ کو MARITAL VIOLENCE THE COMMUNITY RESPONSE ورد کی تھی ہوئی اس کتاب سے ایک حوالہ پڑھ کر سناتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں۔، 19 کے ایک سروے SURVEY میں بنایا کہ برطانیہ میں ہر سال سنائیں ہزار سیس SERIOUS کیسر ہوتے ہیں جن میں مرد اپنی بیویوں کو مار کر زخمی کر دیتے ہیں سیاہ کی عورتوں کی اصلاح معاشرہ کی کوششوں کے نتیجے میں سروے SURVEY سے معلوم ہوا کہ یہ