قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 44 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 44

۴۴ گھروں میں گئے۔ان سے انٹرویو کیا۔تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو چھوڑ دو۔ہماری مظلومیت کی زندگی اب بدل نہیں سکتی۔ہمارے حالات ایسے ہیں۔ہمارے بچوں کے حالات ایسے ہیں اب جس طرح بھی ہے۔اسی طرح چلتا رہے گا۔چنانچہ ایسے ہی ایک سوشل ورکر نے گھروں میں جا کر سوالات کئے۔اور ان کے واقعات لکھتے ہیں۔ایک عورت کے متعلق بیان ہے۔جو میں نے آپ کے منانے کے لئے چنا ہے۔کہتی ہے۔میرے خاوند نے ساری زندگی مجھے مارا۔جب میں پہلے بچے سے حاملہ ہوئی تو میرا خاوند باہر جانے لگ گیا۔دوسروں کے ساتھ۔پھر جب وہ شراب خانے سے واپس آنا تو مجھے مارنا شروع کر دیا۔کہتی ہے۔کہ روزمرہ کا یہ دستور تھا۔لیکن ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اس نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر میرا سر دیوانہ پر مارنا شروع کیا۔یہاں تک کہ میں بے ہوش ہو گئی۔پھر مجھے گھسیٹ کے پانی کی ٹوٹی کے نیچے لے گیا۔اور ٹھنڈا پانی میرے سر پر ڈالا۔اور جب مجھے ہوش آئی۔تو پھر اسی طرح مجھے کندھوں سے پکڑا اور دیوار کے ساتھ مارنا شروع کیا۔یہاں تک کہ میں پھر بے ہوش ہوگئی۔جب اس سے پوچھا گیا کہ ان حالات میں اپنے خاوند کو چھوڑتی کیوں نہیں۔تو کہنے لگی کہ آخر وہ اپنے بچوں کو لے کر کہاں جائے۔اس سے کہا گیا کہ وہ حکومت کی سوشل سروسز کی طرف رجوع کرے۔کہنے لگی کہ اس نے کوشش کی ہے مگر ہر دفعہ اس کو ثال دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ واپس گھر چلی جاؤ۔چنانچہ اس سوشل ورکرز نے جب لندن کی تمام د سوشل سروسز سے اس عورت کی داستان بیان کر کے ان سے مدد چاہی تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر وہ گھر سے نکلی تو وہ ؟ VOLUNTARY HOMELF والتٹری ہوم میں قراند دی جائے گی اور تجر والنفری سوم میں ہو اسے C_JNTARY HOMELESS: جھٹلادیتی ہے چودہ سو سال پہلے اسلام نے عورت کے متعلق جو تعلیم دی تھی۔آج کے یورپ کو بھی اس تعلیم کے پاؤں چھونے تک کی توفیق نہیں ملی۔اور میں جب یہ دعوی کرتا ہوں تو اہل یورپ کی زبان میں ان حقائق کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جن کو بھلا نے کا آج کسی کو حق نہیں۔سب سے پہلے تو میں NORTHUMBERLAND AND TIME SIDE COUNCIL OF SOCIAL SERVICES نارتھ امیر لینڈ انیڈ ٹائم سائیڈ کونسل