قواریر ۔ قوامون — Page 46
تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔بلکہ دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔علاوہ ازیں کہتے ہیں کہ اس تعداد کو بھی آخری شمار نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ کہتے ہیں۔ہما را تا ثر یہ ہے کہ اکثر عور ہیں مارکھاتی ہیں۔اور خاموش رہتی ہیں۔کیونکہ وہ شرم محسوس کرتی ہیں کہ تحقیق کرنے والوں کو تبائیں کہ ہمارا خاوند ہمارے اوپر ہاتھ اٹھاتا رہا ہے۔PARLIAMENTARY SELECT COMMITTEE ON VIOLENCE IN MARRIAGE ریار سیمنٹری سیلیکٹ کمیٹی اون وانیلنس ان میرج ) نے کہا ہے کہ اس وجہ سے اس قسم کی صحیح تعداد کا اندازہ کرتا ہے مد شکل ہے۔چنانچہ ایک اور رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ عمر میں صرف برسٹل BRISTOL کے علاقہ میں پانچ چھ ہزار کے قریب کمیسز پولیس کی رپورٹ کے مطابق درج ہوئے جن میں عورتوں نے شکایت کی تھی کہ مردوں نے ہمیں ظالمانہ طور پر بیٹا ہے۔اس کے لئے کوئی امداد نہیں کی گئی اس بیچاری کو کیا کرنا چاہیئے۔اگر وہ عدالت میں جائے اسی گھر میں رہتے ہوئے اپنے خاوند کے خلاف آواز اٹھائے یا سوشل سروس میں جائے۔تو جو اتنا ظالم ہے وہ اور کتنا بد اس سے سلوک ا کرے گا۔اور کیا کیا برا سلوک نہ کرے گا۔کہنا چاہیے۔اور اگر وہ خود نکل جائے۔تو وہ امداد کی مستحق نہیں رہتی کیو نکہ قانون یہ کہتا ہے کہ تم خود بخود نکل آئی ہو۔امریکہ میں جو سروے شائع ہوئے ہیں۔وہ بھی اس حال سے کوئی بہتر نہیں نہیں اہم فیصد عورتوں کو شادی کے پہلے چھ مہینوں میں مارا گیا ہے۔سارے امریکہ کی ساری شادیوں کی بات ہو رہی ہے۔اہم فیصد عورتوں کو شادی کے پہلے چھے مہینوں میں مارا گیا۔۱۸ فیصد عورتوں کو ایک سال کے بعد ماہ پر ٹی شروع ہوئی۔۲۵ فیصد عورتوں کو دو سال کے بعد مار پڑنی شروع ہوتی۔اور یہ جو امریکہ اٹھ اٹھ کے اسلام پر اعتراض کرتا ہے۔اور فلمیں دکھاتا ہے۔النعوذ باللہ ) اسلام کے مظالم کی۔اپنا اب یہ حال ہے کہتے ہیں۔چنا کچھ پہلے تین سال کے STATISTICS بتاتے ہیں۔کہ ام ۸ فیصد عورت میں ایک سال سے دو تین سال کے اندر اندر مارکھانی شروع کردیتی ہیں۔د بحوالہ : DOBASH + DOBASH 94-1979 اب جس کے مذہب کے اوپر زبان طعن دراز کی جار ہی ہے۔یعنی حضرت اقدس