قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 41 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 41

ہے کہ دیکھو آج جو ہم نے عورت کے متعلق کہا ہے۔چودہ سو سال پہلے تم لوگ اس سے واقف نہیں تھے۔گویا اس رنگ میں موازنہ پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ایک کتاب ہے۔SCREAM QUIETLY OR THE NEIGHBOUR WILL HEAR ERIN FIZZY نے یہ کتاب لکھی۔PENGUIN ۱۹۷۴ء نے شائع کی۔اس کتاب میں عورتوں پر ظلم کی بہت ہی درد ناک داستا نہیں ہیں۔ایک روایت کے مطابق عورتوں کی مار کھا کھا کر زخمی اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں سگرٹوں سے جلائی ہوئی جلد اور بے شمار خطرناک زخموں کی ایک کہانی ہے۔اس کہانی کی تفصیلات کو تو چھوڑتا ہوں جس نے یه کتاب دیکھنی ہے۔وہ دیکھ سکتا ہے۔بہت دردناک واقعات ہیں اس میں۔جس میں یه ساری چیزیں درج ہیں۔کیس طرح وہ بوتلیں شراب کی مارمارہ کے توڑتے۔ان کے ٹوٹے پھوٹے شیشوں سے کیسے گہرے زخم عورتوں کے چہروں پر آتے۔اور باندھ کر سگریٹوں سے ان کو جلایا جاتا، اور یہ پچھلی صدی کی بات نہیں۔اس صدی کے شروع کی بھی بات نہیں۔۱۹۷۳ کی بات کر رہا ہوں۔بہر حال جو اس کتاب کو جو دلچسپی چاہیے رکھے جس کا حوصلہ ہو۔وہ اس کتاب کو پڑھ سکتا ہے۔1961ء 194ء میں پہلی بار انگلستان میں VIOLENCE کے خلاف قانون ایکٹ بنا ہے۔اور قانون کے مطابق ۱۹۱۵ر کا قانون اس وقت تک منسوخ نہیں ہو سکتا جب تک کوئی نیا قانون اس کو منسوخ نہ کرے 19 میں یہ کل کی بات سمجھیں اب پہلی بار یہ قانون بنایا جا رہا ہے اور اعتراض کر کر کے برا حال کیا ہوا ہے۔انہوں نے اسلام کے اوپر 194 ء میں اس قانون کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے (WAF) ویف کی ریسرچ کی رپورٹ تھی کہ اس ایکٹ کا کوئی اللہ ظاہر نہیں ہوا۔کیونکہ جب تک بج کہ اس بات کی تسلی نہ ہو جائے۔کہ تشدد واقعی حد سے گزر گیا تھا۔وہ مرد کو گھر سے باہر نہیں نکال سکتے۔اگر انہیں گھر سے نکال دیں تو حکومت کو مسئلہ یہ پیش آجاتا ہے کہ وہ مرد موم میں HOMELESS بن جاتا ہے۔اور لوکل کونسل کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی پڑتی ہے۔اس ریسرچ ٹیم نے