قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 42 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 42

جو فائنڈنگن FINDINGS دی ہیں۔ان کی رو سے وہ کہتے ہیں۔ہم نے چھ سو چھپن مظلوم عورتوں کا انٹر ویو لیا۔ان میں چونسٹھ فیصد نے کہا کہ ان کے خاوندوں نے انہیں مارا مگر با وجود رپورٹ کے پولیس نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ وہ گھر ملو جھگڑوں میں دخل اندازی نہیں کرسکتے۔باقی چھتیس فیصد نے کہا کہ پولیس کو بلایا گیا۔انہوں نے یقین ہی نہیں کیا کہ مارا بھی گیا تھا اور عورتوں کا اس رپورٹ کے مطابق تاثر یہ تھا۔کہ چونکہ پولیس والے اکثر مرد ہیں۔اس لئے اس معاملے ہیں وہ مردوں کا ساتھ دیتے ہیں۔اور عورت کی آوانہ نہیں سنتے۔ساؤتھ لندن پولیس کی جمعہ ۱۲ جون ۱۹۸۶ دومیں یہ خبر شائع ہوئی کہ ایک باپ نے اپنی ایک سال کی معصوم بچی کو سر یہ اس قدر مارا کہ اس کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کرہ بچی ساری زندگی کے لئے اندھی ہوچکی ہے۔اور اس کے علاوہ مرگی کی بیماری لگ گئی ہے۔اس کے علاوہ اور بھی بیماریاں جو عمر بھر اس کے ساتھ لگی کہ ہیں گی۔ٹائمز ۲۰ جون 19 : صفحه 4 TIMES 20TH JUNE 1987 PAGE میں لکھا ہے کہ پورش در تھ PORTSWORTH میں ایک پانچ سالہ بچی کو اس کے باپ نے ریپ RAPE کیا۔اور N۔SP۔C۔C کے اندازے کے مطابق ۱۹۸۶ م میں رجسٹرڈ مظلوم بچوں کی تعداد دس ہزار تھی۔یہ بیچتے پندرہ سال سے کم عمر کے ہیں۔اور ان میں بھاری اکثریت دہ تھی۔جن کے ساتھ اسی قسم کے جنسی مظالم ہوئے۔جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔انگلینڈ اور ویلز ( WALES) میں اسی تعداد میں اضافہ ہے۔۱۹۸۵ء میں بیالیس فیصد اضافہ ہوا۔یہ قانون بننے کے بعد کے اور تحریکات جاری ہونے کے بعد کے قصے ہیں۔سمجھ نہیں آتی کہ کس منہ سے یہ اسلام کی اس تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں۔جس کی تفسیر کہیں نے آپ کے سامنے ابھی سنائی ہے اور جو حال ہے اپنا۔وہ یہ ہے کہ جتنی کوششیں کر رہے ہیں۔یہ ظلم ہاتھ سے نکلتا چلا جا ہلا ہے۔اور حد سے بڑھتا جا رہا ہے۔۱۹۸۵ء میں انگلینڈ اور ویلز WALES میں بیالیس فیصد اضافہ ہوا۔اور جہاں تک معصوم بچیوں کے ساتھ سیکسوئل ابیوض SEXUAL ABUSE کا تعلق ہے۔ایک سو چھبیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔یعنی دوگنے سے بھی بڑھ گیا ہے معاملہ ساری اسلامی کرنیا میں آپ تلاش