قواریر ۔ قوامون — Page 40
مذہبی کتب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ سابقہ نہ مانوں میں ہندوؤں میں بھی یہ رواج تھا کہ اچھے خاندان کے لوگ اپنی بیٹی کی پیدائش پر اسے مار دیا کرتے تھے۔عورت کی شادی کے لئے اس کی اجازت کا حصول ضروری نہیں۔بیوہ عورت کے ساتھ یہ سلوک ہوگا۔کہ وہ شادی نہیں کرے گی۔اس کو سر کے بال منڈوانے ہوں گے اور ہمیشہ سفید کپڑے پہنے ہوں گے۔آئندہ کبھی وہ زنگدار کپڑے استعمال نہیں کرسکتی۔کسی شادی میں شریک نہیں ہوسکتی۔اگر ہو بھی تو سہاگن کے قریب بھی نہ جائے۔اپنا کھانا خود پکانا ہوگا۔کوئی اس کو کھانا پکا کر نہیں دے سکتا۔اس کے علاوہ بھی بہت سے بھیانک مظالم ہیں جو عورت پہ لہ والہ کھے جاتے ہیں۔اور نتیجتاً ایک ایسے ظلم کا آغا نہ ہوا۔جو ان مظالم کے نتیجے میں ہو جانا چاہیے تھا۔ہندومت نے عورت کو یہ تعلیم دی کہ خاوند مر جائے تو قریبی جل مرو۔اتنا درد ناک نقشہ ہوتا ہے۔ساری عمر دُ کھ اٹھانے کا ایک ہندو بیوہ کا کہ اس کے بعد یہ تعلیم رحمت نظر آتی ہے کہ ساری عمر جو دکھ اٹھاتے ہیں۔تو بہتر یہ ہے کہ ایک دفعہ ہی جل کر مر جاؤ۔ورنہ ساری زندگی ملتی نہ ہو گی۔منو سمرتی جو عورت کے متعلق تعلیم دیتی ہے۔وہ جانوروں سے بدتر ہے۔وارث کبھی قرار نہیں پاتی۔اور اس کے علاوہ بعض ایسی رسمیں ہیں جن کا یہاں ذکر مناسب نہیں۔چنا نچہ تعلیم سے تماشہ ہو کر ہندو شاعر تلسی داس نے کہا۔و مشورہ ڈھول ، موسیقی پیٹتے ہی رہیں تو ٹھیک رہتے ہیں۔تمدنی اور تہذیب لیا انگور کے مقام کے متعلق اسلامی در مغربی طرز کا میں انت بہر حال مذاہب کے مختصر موازنے کے بعد اب میں تمدنی اور تہذیبی مواز نے کی طرفف آتا ہوں۔مغرب کو اپنی تہذیب پر ناز ہے۔اور یہ سمجھتے ہیں کہ اہلِ مغرب کی تہذیب راسلامی تہذیب کے مقابل پر عورت کے لئے بہت ہی بہتر ہے اور چودہ سو سال قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے قلب مطہر پر نازل ہونے والی تعلیم پر جو اعتراض کرتے ہیں۔اس کے مقابل پر آج کل کی مغربی تہذیب کو رکھتے ہیں۔اور اس موازہ نے میں ان کو لذت محسوس ہوتی