قواریر ۔ قوامون — Page 39
۳۹ وہ مرد کی محکوم بن کر رہے۔اور اس کی علامت کے طور پر اپنا سرڈھاپنے۔خیر یہ کہنا پڑھتا ہے کہ یورپ نے علامت اڑا دی ہے۔اور شاید اسی وجہ سے اس کی حکومت سے باہر نکل گئی ہے۔اب میں اس حدیث کو جواب مجھ کو مل گئی ہے۔آپ کے سامنے رکھنے کے بعد پھر میں اس مضمون کو دوبارہ شروع کروں گا۔مارنے کے متعلق جو حدیث لکھتی اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے ایک تاکید فرمائی ہے۔اور وہ ہے۔پہلے تو حقوق بیان فرمائے۔آپ نے فرمایا " ہو تو کھاتا ہے۔اس کو بھی کھلا۔جو تو پہنتا ہے۔اس کو بھی پہنا۔اور اس کے چہرے پہ نہ ماہ۔اور اس کو بدصورت نہ بنا۔اور پھر فرمایا۔اگر سبق سکھانے کے لئے مجھے اس سے الگ رہنا پڑے تو گھر میں ہی ایسا کہ یعنی اسے گھر سے نہ نکال خود بھی گھر سے نکل پس یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسی قرآن کریم کی آیت کی تفسیر فرمائی جا رہی ہے۔فرمایا ان کو اپنے بستروں میں اکیلا چھوڑنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تم انہیں اکیلا چھوڑ کر باہر نکل کر اسے تلملتے اڑاتے پھرو۔اور ان کی اس علیحدگی کے دُکھ میں شریک نہ ہو۔فرمایا۔تم کو اس وقت تک ان کی علیحدگی کا دُکھ دینے کے لئے اجازت ہے۔جب تم خود اس دُکھ میں شریک رہو۔نہ عورت کو گھر سے نکالو۔اور نہ خود نکلو۔اور اگر مرد یہ طریق اختیار کریں۔تو انتہائی بھید کی بات ہے۔کہ شاید یہ کسی زمانہ میں کسی شخص کو کوئی ایسی عورت مل جائے۔کر اس کے باوجود اس پر ہاتھ اٹھانا پڑے۔ہندو ازم میں عورت کی حیثیت جہاں تک ہندو مذہب کا تعلق ہے چونکہ دنیا کے دیگر مذاہب سے تفصیلی مواز نے میں وقت یہ پیش آئی کہ جب میں نے تلاش کیا تو پتہ چلا کہ اکثر مذاہب میں وہ تعلیمات ہی موجود نہیں جو اسلام میں ہیں۔ذکر ھی نہیں بعض مذاہب ہیں۔اس لئے خلاف ملتے ہیں جو بڑے بڑے مذاہب میں ملا یہودیت ، عیسائیت اور ہندو ازم ان میں چونکہ ذکر ملتا ہے۔اس لئے میں نے ہندو ازم کو بھی آج کے موازہ نہ کے لئے چن لیا۔ہندومت میں بیٹی کی پیدائش کو محوس قرار دیا گیا ہے۔اور جس طرح عربوں میں بیٹی کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔اسی طرح ہندو