قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 38 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 38

۳۸ پیش کرنا مقصود ہے۔تو بائیبل کی تعلیم کی اسلام کی تعلیم پر فوقیت دکھانی چاہیے اور یہ جائز موازنہ ہے۔یہودیت کی تعلیم کی فوقیت۔عیسائیت کی تعلیم کی فوقیت دکھائی جائے۔لیکن مذہب کے مقابل پر تہذیب کی بخشیں شروع کر دی جائیں تو یہ بالکل لاتعلق باست ہے۔لیکن یکیں ہیں پہلو کو بھی بعد میں لوں گا۔عیسائی اسلام پرحملہ آور ہوں تو بائیبل سے جواب دیں سردست آپ کو یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں۔کہ جب بھی کوئی عیسائی آپ سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام کی کسی تعلیم پر حملہ آور ہو ، تو آپ ہمیشہ پہلے بائبل سے اس کا موازنہ کیا کریں۔اور تہذیب کو نظر انداز کیا کریں۔کیونکہ کسی انسان کا یہ حق نہیں کہ ایک کلاس کی چیز کا کسی دوسری کلاس کی چیز سے موازہ نہ کریں۔بائیل کے نمونے اب میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔بائبل کہتی ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے ڈرتی رہے (امثال ۳۳ ) پید کشمیر میں لکھا ہے کہ شوہر تم یہ حکومت کرے گا : اب جو الزام اسلام پر لگا رہے تھے۔وہ الزام تو خود بائبل سے ثابت ہو گیا۔اگر کورت کرنا بری بات ہے تو پھر عیسائیت نے خود حکومت کی بنیاد ڈالی ہے جو یہودیت نے تورات میں دی ہے۔جہاں تک انجیل کا تعلق ہے کہتی ہے کہ دیکی اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے یامرد پر حکم چلائے بلکہ مچپ چاپ رہے؟ جہاں تک سکھانے کا تعلق ہے۔اس نے بات کو عام کر دیا ہے۔صرف مذہب کا تعلق نہیں رہا مرنیا میں عورت کوئی بھی تعلیم نہیں دے سکتی۔اور مرد پر حکم چلانا ہی بند نہیں کیا۔بلکہ بے چاری کی زبان بھی بند کردی۔چپ چاپ رہے۔محکم نہ دینے پر بات رہتی تو ٹھیک تھا لیکن عورت نہ ایک بات رہتی تھا بے چاری جو ویسے ہی بولنے کا شوق رکھتی ہے۔اسکی زبان گر کر دینا یہ کہاں کا انصاف ہے۔پھر لکھا ہے۔وہ مرد کی محکوم بین کر رہے (کرنتھیوں )