قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 33 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 33

ساری جائیداد برابر کی تقسیم ہو جائے گی۔اس سے ملتا جلتا کوئی جھگڑا تھا۔بہر حال اللہ تعالے نے فضل فرمایا اور وہ معاملہ حکومت میں یا عدالتوں میں جانے کے بجائے۔آپس میں بڑے عمدہ رنگ میں سمجھوتے سے طے ہو گیا لیکن سوال یہ ہے کہ اس قسم کے جہاں اقتصادی قوانین پائے جاتے ہوں۔کہ عورت پر دوہرے بوجھ ڈال دیئے ہوں۔گھر کی کمائی کا بھی اور بیرونی کمائی کا بھی۔اور تمام اقتصادی زیر لوں میں اس کو شریک کیا جارہا ہو۔تو اُن کو یہ آیت نہیں سمجھ آئے گی کیونکہ اس میں تو ایک ایسے قصادی نظام کا ذکر ہے جس میں عورت کلینہ بری الذمہ ہے۔خاوند وہ کیسے کمائے ہوئے مال کو لالچ کی نظر سے نہ دیکھے اُمر واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے اقتصادی نظام میں دست اگر کھانا چاہے تو ان کو بنانات سے لیکن خاوند کا یہ حق نہیں کہ ان کے ملا نے ہونے مال کو لانچ کی نظر سے دیکھے یا اس سے کوئی مطالیہ کے۔اگروہ بنانے کا سادہ اپنا کھایا ہوا مہ د پیر اپنی مرضی سے الگ رکھتی ہے اپنے ماں باپ کو دیتی ہے۔اپنے بھائیوں پر خرچ کرتی سے جماعت کورے دیتی ہے۔بہرگز قرآن کریم کی تعلیم کی۔ویسے مرد کو یہ ہی نہیں کہ وہ اعتراض کرے کہ تمہاری وہ کہ نئی کہاں گئی۔اس کے باد تود مرد کا یہ فرض کر تا ہے کہ وہ عورت کی زمہ داریاں بھی اٹھائے۔اور بچوں کی ذمہ داریاں بھی اٹھائے۔اس پہلو سے تو فضیلت دی گئی ہے۔اس فضیلت کے ساتھ تو ذمہ داریاں بہت ہی زیادہ ہیں۔اگر یہ فضیلت عورتوں کو چاہیے تو بے شک سے ہیں۔اور کوئی دنیا میں مرد اعتراض نہیں کرے گا۔کہ تم گھر کے چلانے کی ذمہ داریاں ساری اقتصادی ذمہ داریاں اٹھاؤ۔ہمیں آزاد کر دو۔اور ہم کہیں گئے تم افضل ہو گئیں۔افضل تو ہو جائیں گی پھر وہ۔واقعتا ہو جاتی ہیں۔ایک پہلو سے۔اور عملاً ہم نے روزمرہ کی نہ ندگی میں دیکھا ہے۔ایک گزشتہ سال جو قافلے آئے تھے پاکستان سے۔ان میں ایک ایسی خاتون بھی تھیں۔جن کے خاوندان سے پیسے مانگ کر خرچ کرتے تھے اور ان کی حالت قابل رحم تھتی ہے چاروں کی۔پیچھے پیچھے پھرتے تھے اور جب تک وہ بیوی کو راضی نہ کر لیں۔وہ ان کو خوشی سے کچھ رقم دے نہ دے۔ان کے پاس ایک جگہ سے دوسری جگہ تک جانے کا کہا یہ تک نہیں ہوتا تھا۔