قواریر ۔ قوامون — Page 32
اقتصادی نظام میں مرد کا فرض ہے کہ وہ گھر کی ضرور توں کا خیال رکھے۔اور یہ ظاہر بات ہے کہ جس کے ہاتھ میں روپیہ پیسہ ہو۔اسے گونہ اس پر فضیلت حاصل ہو جاتی ہے جس کے ہاتھ ہیں۔ہو یا جس کی کمائی کی ذمہ داری نہ ہو۔چنانچہ مرد اور عورت کی بحث تو در کنامہ وہ قومیں بھی جو معمولی اپنی اجتماعی قومی دولت کا ایک معمولی حصہ نبی غیر قوموں سے بطور امداد کے لیتی ہیں۔ان کے سران کے سامنے جھک جاتے ہیں۔اور امداد دینے والی قوموں کو ایک فضیلت نصیب ہو جاتی ہے اگر واقعہ یہ ہے کہ یورپ اس پہلو کو اس لئے نہیں سمجھ سے نگہ یا مغرب اس پہلو کو کہنا چاہیے کیونکہ یورپ میں تو امریکہ نہیں آتا۔مغرب میں امریکہ نبی اور دیگر ایسے ممالک سبھی شامل ہیں۔جو ترقی یافتہ مغربی ممالک ہیں۔وہ اس حقیقت کو اس لئے نہیں سمجھ سکتے کہ انہوں نے گھر دن کے یہ بوجھ اٹھانے سے عملکاری طرح انکار کر دیا ہے۔یعنی تنہا اٹھانے سے۔کہ ان کے اقتصادی نظام میں ان کے معاشی نظام میں عورت پر تقریب برابر کی زمہ داریاں آچکی ہیں۔اور حد یہ ہے اس کے باوجود عورت تو نے کی حیثیت سے اس پر جو گھر بلو ذمہ داریاں ہیں۔دی بھی اِس پر اسی طرح رہتی ہیں۔اقتصادی لحاظ سے کہتے ہیں کہیں بھی کھاتا ہوں۔اور اپنی بیوی کو کہتے ہیں تم بھی کماؤ۔اور ہم دونوں مل کر گھر چلاتے ہیں۔کیونکہ اکیلے کی محنت سے کام نہیں چلتا۔اور دونوں مل کر محنتیں کرتے ہیں۔جب کھانا پکانے کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں۔تم پکاؤ۔جب بچے پیدا کرنے کا وقت آتا ہے۔تو کہتے ہیں۔کہ میں مجبور ہوں۔تم بچے پیدا کرو۔تو جینے میرے بچے کو اٹھائے پھرو۔اپنی زندگی کا ہر جنز و اس کو دو۔اپنا خون دو۔اپنی ہڈیاں دو، اپنا دماغ دو۔رگیں دو۔جو کو بھی خدا نے تم کو دیا ہے۔اس کے ساتھ SHARE کرو۔اور پھر اس دور میں بھی تم کماؤ۔یکس بھی کماتا ہوں۔ہم دونوں برابر ہیں۔یعنی برابری کا عجیب تصور ہے۔اور پھر اس کے بعد جب علیحدگی ہوتی ہے تو اگر مرد کے پاس کچھ بھی نہ ہو تب بھی وہ بیوی کے مال میں آدھے کا شریک ہو جاتا ہے چنانچہ کچھ عرصہ پہلے سویڈن سے ایک شکایت ملی۔ایک احمدی عورت کی ایک شکایت تھی۔اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔مگر اس دوران جب میں نے تحقیق کروائی کہ اس ملک کے قوانین کیا ہیں۔بیسن کر میں حیران رہ گیا کہ اگر ایک عورت ایک غریب مرد سے شادی کرنے اور ان کی علیحدگی ہو جائے۔تو قطع نظر اس کے کہ اس غریب مرد نے کتنا حصہ ڈالا تھا۔علیحدگی کے وقت