قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 34 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 34

۳۴ تو قرآن کریم سیچ فرماتا ہے۔کہ جس کے اوپر رزق کمانے کی ذمہ داری ہے۔اسے طبیعی اور طبیعی طور پر ایک فضیلت ہو جائے گی۔ایک واقعاتی اظہار ہے۔اس پر کسی قسم کے اعتراض کی گنجائش ہی کوئی موجود نہیں۔اس کے بعد اگلے مضمون سے قبل ایک تھوڑا سا ٹکڑا آیت کا ایسا ہے جو بظاہر بات شروع کر کے نامکمل چھوٹہ دیا گیا ہے فرمایا فَالصَّامِت حَفِظَتُ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ الله پس وہ نیک اعمال، والی بیبیاں جو فرمانبردار بھی ہیں۔اور نیک اعمال نبی نہیں اور غیب میں حفاظت کرنے والی حقوق کی۔ان حقوق کی جو اللہ نے ان کے اوپر فرض کئے اور اس کے بعد کچھ نہیں۔کوئی بیان نہیں فرمایا کہ ان کے متعلق کہ ان سے کیا سلوک کرد - قرآن کریم کا میں خاص اسلوب ہے اور بڑا دلکش اسلوب ہے۔جس مضمون کو بڑی شان کے ساتھ اٹھانا چاہتا ہے اور توجہ دلانا چاہتا ہے بعض دفعہ اسے شروع کر کے بغیر اسے ختم کئے بات چھوڑ دیتا ہے۔مراد یہ ہے کہ دیکھو اپنی بیبیوں کو دیکھو۔اور ان کے حقوق کی طرف توجہ کرو۔ان کی عزت اور احترام کا خیال رکھو۔کیونکہ یہ تو سب کچھ کر رہی ہیں۔جو تم ان سے توقع رکھ سکتے تھے۔یہ نہ ہو کہ یہ جو تم سے توقعات رکھتی ہیں۔وہ پوری نہ کر سکو۔اس لئے اس آیت کے اس پیڑے کو بغیر نتیجے کے خالی چھوڑ دیا گیا کیونکہ اس کے بہت سے نتائج نکل سکتے ہیں۔اور یہی قرآن کریم کا اصول ہے جہاں ایک سے زائد نتائج کی طرف توجہ دلانا مقصود ہو وہاں بغیر نتیجہ نکالے مخداتعالے اس ٹکڑے کو چھوڑ دینا ہے اور ذہن کو آزادی دیتا ہے کہ جو اچھے نتائج مرتب کر سکتے ہو مرتب کرتے چلے جاؤ۔نشور کا مفہوم اور مڑ کو حوصلہ کھاتے ہوئے نصیحت کرنے کی تلقین اگلا ح وَالَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ اگر تمہیں خطرہ ہو یا محسوس ہو * کہ تمہارے حقوق ادا کرنے کے باوجود بعض عورتیں فساد اور دینگے پر تلی بیٹھی ہیں اور نشوز میں ہر قسم کا فساد اور دانشگا شامل ہے۔یہاں تک کہ ہاتھ اٹھا میٹھنا بھی شامل ہے۔ایسی صورت نہیں