قواریر ۔ قوامون — Page 10
ادا کریں۔اور اس بارہ میں کسی قسم کا نا واجب پہلو اختیار نہ کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کی بعثت سے پہلے عورتوں کے کوئی حقوق تسلیم ہی نہیں کئے جاتے تھے۔بلکہ انہیں مالوں اور جائیدادوں کی طرح ایک منتقل ہونے والا در شر خیال کیا جاتا تھا۔اور ان کی پیدائش کو صرف مرد کی خوشی کا موجب قرار دیا جاتا تھا۔حتی سر مسیحی جو اپنے آپ کو حقوق نسواں کے بڑے حامل کہتے ہیں۔ان کے نوشتوں میں بھی عورت کی نسبت کیا ہے۔” اور میں اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے“ ر تمناؤس باب ۲ - آیت ۱۲ ) صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت کی انسانیت کو نمایاں کرکے دکھایا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ واکر د سلم ہی وہ پہلے انسان ہیں۔جنہوں نے عورتوں کے برابر کے حقوق قائم کئے۔اور ولهن مثل الذى عليهن با المحرُوف کی تغییر لوگوں کے اچھی طرح ذہن نشین کی۔آپ کے کلام میں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق اوران کی قابلیتوں کے متعلق جس طرح ارشادات پائے جاتے ہیں۔ان کا دسواں حصہ بھی کسی اور مذہبی پیشوا کی تعلیم میں نہیں ملتا۔آج ساری دنیا میں یہ شور مچ رہا ہے۔کہ عورہ توں کو ان کے حقوق دینے چاہیں اور بعض مغرب نہ وہ نوجوان تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں۔کہ عورتوں کو حقوق عیسائیت نے ہی دیتے ہیں۔حالانکہ عورتوں کے حقوق کے سلسلہ میں اسلام نے جو وسیع تعلیم دی ہے۔عیسائیت کی تعلیم اس کے پاسٹنگ بھی نہیں۔عربوں میں رواج تھا کہ دری میں اپنی سوتیلی ماؤں کو سمی تقسیم کر لیتے تھے مگر اسلام نے خود عورت کو وارث قرار دیا۔بیوی کو خاوند کا۔بیٹی کو باپ کا اور بعض صورتوں میں بہین کو بھائی کا بھی۔عرض فرمایا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَليمن اپنی انسانی متوق ما یہاں تک سوال